پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے لیے پولنگ جاری

انتخابات
آزاد جموں کشمیر انتخابات کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جس کی حکومت اسلام آباد میں ہوتی ہے اسی کی حکومت آزاد کشمیر میں بھی ہوتی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 45 حلقوں میں انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ ان انتخابات میں 33 حلقوں سے 602 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کے 12 انتخابی حلقوں میں 122 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

کشمیر میں 32 لاکھ 20 ہزار 546 رائے دہندگان پانچ سال کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

ان انتخابات میں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

پاکستان کی فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات ہے جبکہ رینجرز اور ایف سمیت قانون نافذ کرنے والے محکمے انتخابات کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے فوجی دستے تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔

اس درخواست پر پاکستان کی فوج 22 سے 26 جولائی تک کوئیک ری ایکشن فورس کے موڈ میں تعینات رہے گی۔

مبصرین کے مطابق کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں یہ رجحان رہا ہے کہ پاکستان میں حکمران جماعت ہی کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی کشمیر میں شاخیں انتخابات میں حصہ تو لیتی ہیں لیکن وہ نتائج سے پہلے ہی آگاہ ہوتی ہیں۔

اب کی بار مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے طور پر کشمیر میں اپ سیٹ کرنے اور تاریخ بدلنے کے لیے بھرپور عوامی مہم چلائی ہے۔
وفاقی وزراء بھی اگرچہ کشمیر میں موجود رہے لیکن مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو ماضی کی حکمران جماعتوں کی نسبت مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

کشمیر کے گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی تھی جبکہ اس وقت کی کشمیر کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کشمیر سے دو جبکہ مہاجرین کی ایک نشست کراچی سے حاصل کر سکی تھی۔

تحریک انصاف نے مہاجرین کی لاہور اور مانسہرہ کی ایک ایک نشست جبکہ کشمیر سے ایک نشست کے ساتھ مجموعی طور پر تین نشستیں حاصل کی تھیں۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

سمیع اللہ خان ایک نوجوان بلاگر ہیں جو سماجی مسائل، حالات حاضرہ کے علاوہ اصلاحی طنز و مزاح بھی لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ’خوشحال‘ کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!