’عالمی میڈیا سے پتا چل رہا ہے کہ حکومت امریکا کو اڈے دے چکی ہے، میں مخالفت کرتی ہوں‘

حزب اختلاف جماعت کی مریم نواز کے مطابق عالمی میڈیا سے پتا چل رہا ہے کہ حکومت امریکا کو اڈے دے چکی ہے، میں مخالفت کرتی ہوں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی لیڈر مریم نواز کا بیان

پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عالمی میڈیا سے پتا چلا کہ حکومت امریکا کو فضائی اڈے دے چکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں عالمی میڈیا سے پتا چل رہا ہے کہ حکومت امریکا کو فضائی اڈے دے چکی ہے جس کی میں مخالفت کرتی ہوں، یہ بتائیں جو بھی ڈیل کی ہے وہ حکومت بچانے کے لیے یا سرنڈر کیا ہے تو پارلیمنٹ میں قوم کو بتایا جائے کہ کیا بلنڈر کیا ہے، قوم کے سامنے آنا چاہیے کہ اپنی حکومت بچانے کے لیے کیا سودا کر کے آئے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ اصل میں چیئرمین نیب تو وزیراعظم عمران خان خود ہیں وہ جس کو چاہیں عہدے سے ہٹا دیں اور جس کو چاہیں لگا دیں، اس ساری صورتحال میں جو بھی عمران خان کا آلہ کار بنا ہوا ہے، جس طرح کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بنے ہوئے ہیں، تو یہ ان کو بھگتنا پڑے گا کیوں کہ احتساب اس کا بھی ہو گا جو آلہ کار بنے گا۔

نائب صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ عدلیہ کو ایسے اقدامات کرنے چاہئے کہ کسی بھی جج سے کوئی غلط فیصلہ نہ لے سکے، اس معاملے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی اتنی بڑی گواہی آئی ہے ، جس کی آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے ، کیوں کہ یہ ایک جج کا معاملہ نہیں ہے ، اس لیے عدلیہ کو سمجھنا چاہیے کہ کل وہ سب جج بھی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے جو آج کیس سن رہے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں کوئی اختلاف نہیں ہے ، اس میں شامل تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور سب کا وہی مؤقف ہے جو نواز شریف کا ہے ہاں البہ پاکستان پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم میں شامل نہیں ہے۔ قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ حق لڑ کرلینا پڑتا ہے، ٹرے میں رکھ کرکبھی کچھ نہیں ملتا، مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی،طاقتور کے ساتھ طاقت سے بات کی جاتی ہے، عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں،طاقتورکے سامنے منہ پر زِپ لگا لیں ایسا نہیں ہوگا ، پی ڈی ایم اور پارلیمنٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی اپنی اپنی حکمت عملی ہے ، شہبازشریف بطوراپوزیشن لیڈراپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں لیکن پی ڈی ایم مکمل طور پر آزاد خود مختار ہے ، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے، اس لیے اب پیپلزپارٹی ہمارا ہدف نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی،طاقتور کے ساتھ بات طاقت سے کی جاتی ہے، طاقت کے ساتھ کمزوری کے ساتھ بات نہیں کی جاتی ، جہاں کمزوری دکھائی گئی وہاں دشمن حملہ آور ہوجائے گا ، ٹرے میں رکھ کر کبھی کوئی چیز نہیں ملتی، آپ کو اپنا حق لڑ کر لینا پڑتا ہے ، اگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مزاحمت نہیں بھی ہورہی تو پھر بھی ہم عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، صحافیوں پر گھروں میں گھس کر حملے ہورہے ہیں، دن دیہاڑے گولیاں ماری جاری ہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، پوری دنیا میں ملک بدنام ہوگیا ہے ، قابل عزت ججز پر حملے کیے جارہے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس شوکت صدیقی ہم سب کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، یہ مقدمہ لڑنے سے حق ملے گا کمزوری دکھانے سے کچھ نہیں ملے گا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!