کرک: ترقیاتی کام ‘حکم امتناعی’ سے رُک جانے کا خدشہ

خیبرپختونخواہ کے جنوبی ضلع کرک کی سیاست اور ترقیاتی کاموں میں ایک مرتبہ پھر سے ‘حکم امتناعی’ داخل ہونے جا رہی ہے۔

قومی اسمبلی کے رکن شاہد احمد خٹک جو کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا حصہ ہیں، ضلع میں مختلف ترقیاتی کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ممبر صوبائی اسمبلی میاں نثار گل کا موقف ہے کہ شاہد خٹک صوبائی حکومت کے فنڈز سے اپنے نام سے ترقیاتی کام کر رہے ہیں جو کہ صوبائی اسمبلی کے رکن کا حق بنتا ہے۔

میاں نثار گل کے مطابق وہ علاقے میں ترقیاتی کاموں کیخلاف نہیں ہیں مگر کسی کو اپنا حق غبن کرنے نہیں دے سکتے۔

اس حوالے سے میاں نثار گل کاکاخیل پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بینچ سے حکم امتناعی کیلئے رجوع کر لیا ہے۔

شاہد خٹک
ممبر قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف شاہد احمد خٹک، حلقہ این اے 34 کرک

شاہد احمد خٹک

میاں نثار ایم پی اے پی کے 85 کی ایک بار پھر ترقیاتی کاموں پر سٹے لینے کے لیے پشاور ہائی کورٹ بنوں بنچ میں درخواست دے دی ہے۔

حکم امتناعی ملنے کی صورت میں نری پنوس روڈ احمد آباد علم شیری روڈ اور کرک میں جاری تمام ترقیاتی کام روک جائنگے اور کرک اربوں روپے جو کے بڑے پروجیکٹس پر لگانے ہیں روک جائنگے۔

سیاست، سیاست کے میدان میں ہی اچھا لگتا ہے، عدالتوں میں اس کا نقصان ضلع کو ہوگا اور کرک میں جاری تیز ترین ترقیاتی کام روک جائنگے۔

ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ پی کی 85 کرک، رکن جمعیت علماء اسلام۔ف

میاں نثار گل

قوم کو بہت گمراہ کیا مزید گمراہ نہ کریں۔ نری پنوس روڈ اور دیگر ترقیاتی منصوبے اب میں ہی پایہ تکمیل تک پہنچاٶں گا۔

نری پنوس روڈ میری اولین ترجیحات میں تھا اور میری ہی اسرار پر اس کو شامل کر لیاگیاہے۔

ضلع میں جاری کسی بھی ترقیاتی سکیم کا نہ پہلے مخالف تھا نہ اب مخالف ہوں بلکہ ہر اس ترقیاتی منصوبے کا حامی ہوں جس سے عوام کو ریلیف ملے۔

میں قوم کو بتلا دینا چاہتا ہوں کہ میں عدالت ترقیاتی کاموں کو رکونے کی غرض سے نہیں گیا بلکہ میں تو عدالت اپنا حق مانگنے گیا ہوں کہ ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام جو کہ صوباٸی اے ڈی پی کا ایک حصہ ہے اس پروگرام میں سکیموں کی نشاندہی ممبر صوباٸی اسمبلی کا داٸرہ کار ہے یا ممبر قومی اسمبلی کا۔

عوام بالکل مطمٸن رہے کوٸی بھی ترقیاتی منصوبہ متاثر نہیں ہونے دونگا بلکہ جاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوام کے مشکلات اور ریلیف کو مدنظر رکھتے ہوٸے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا کر کرک کے عوام اور مٹی سے اپنی عقیدت کا حق نبھاٶں گا۔

مجھے افسوس ہے کہ ایم این اے شاہد خٹک کے آفیشل پیج سے من گھڑت پروپیگنڈے شٸیر ہو رہے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں اور قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔

مجھے یقین ہے کہ قبلہ خٹک کے غیور عوام جھوٹے پروپیگنڈوں پر اور بلا کسی صداقت کے قوم کو گمراہ کرنے پر ایم این اے شاہد خٹک سے جواب طلب کریں گے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

دونوں ممبران اسمبلی کے حامی و پارٹی ورکرز ایک دوسرے پر سوشل میڈیا پر تنقید کر رہے ہیں۔

تسکین نامی سوشل میڈیا صارف نے ایم این اے شاہد خٹک کے وال پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ
“اللّٰہ کرے کہ یہ سٹے مل جائے، یہ سب آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے”

ارسلان نامی صارف نے شاہد خٹک کے پوسٹ پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ
“ایم این اے کو سڑک کے علاوہ بھی کچھ نظر آتا ہے؟”

زاہد پراچہ نے ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک کو لکھا کہ
“ایم این اے صاحب! آپ ایم پی اے ہیں یا ایم این اے؟ آپ کو وفاق سے کچھ دیتے نہیں، آپ ایم پی اے کے منصوبوں پر تحتیاں لگاتے ہو۔ میاں صاحب عدالت کا دروازہ اس لئے کھٹکھٹایا ہیں کہ یہ تشریح ہوجائے کہ صوبائی ای ڈی پی ایم پی اے کا حق ہے یا ایم این اے کا؟”۔

آیاز نامی فیس بک صارف نے لکھا کہ
“یہ ان لوگوں کا پرانا کھیل ہے، میاں نثار کے ساتھ قوم کی فکر نہیں، اپنی جیب کی فکر ہے۔ جو کہ اب بھرتا نہیں ہے۔ اب تم کام کے بجائے لوگوں میں نقد بانٹوں ویسے بھی تم عوامی حدمت میں لگے ھوئے ھو”۔

فیصل جان نامی فیس بک صارف نے میاں نثار کے ایک پوسٹ پر اپنی رائے میں لکھا کہ
“اگر عدالت نے سٹے دے دیا تو یہ تو روک جاینگے آپ نے ابھی تک اس طرح میگا پراجیکٹ رایلٹی سے نہیں کی ہے۔ ایم این اے صاحب کر رہا ہے، ایم این اے کو کام کے لیے چھوڑ دے آپ کو پہلے رایلٹی ملی تھی کونسی بڑا پراجیکٹ آپ نے کیا ہے”۔

فیضان خان نے لکھا کہ “15 سالوں اپ حکومت میں اتے رہے ہو کبھی بھی اپکی ترجیحات میں ترقیاتی کام رہے ہی نہیں اب جب کے ایم این اے شاہد خٹک نے ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا اب اپکو انکی ترقیاتی کام یاد اگئے”۔

آکاش خٹک فیس بک صارف نے میاں نثار کے پوسٹ پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ
”اپنی تختی لگوا لو لیکن کام پر سٹے لے کے کرک کو مزید تباہ نہ کرو“۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!