خوشحال خان خٹک

خوشحال خان خٹک (1613 – 25 فروری 1689؛
خوشال خان خٹک، خوشحال بابا (پشتو: خوشال بابا) بھی کہا جاتا ہے اور خٹک قوم خوشحال بابا کو بابائے خٹک قوم بھی تصور کرتی ہے، ایک افغان اور پشتون شاعر، سربراہ اور خٹک قبیلے کا آزادی پسند جنگجو تھا. خوشحال خان خٹک نے تمام پشتونوں کے اتحاد کی تبلیغ کی، اور مغل سلطنت کے خلاف بغاوت کی حوصلہ افزائی کی، شاعری کے ذریعہ پشتون قوم پرستی کو فروغ دیا. خوشحال خان خٹک پہلا افغان رہنما تھا جو اپنے نظریات کو غیر ملکی افواج کے خلاف پشتون قبائلیوں کے اتحاد اور ایک ریاست کی تخلیق کے لئے نظریہ پیش کرتے ہیں. خوشحال خان خٹک نے پشتو میں بہت سے کتابوں کے ساتھ ساتھ فارسی کے چند کتابوں کے مصنف بھی ہیں.

خوشحال خان خٹک کی زندگی مغل سلطنت کے خلاف جدوجہد میں خرچ ہوئی،
افغانستان، خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقہ جات پاکستان میں پشتونوں کے ساتھ تعلقات کو روکا تھا. اپنی آزادی کی بحالی کیلئے خوشحال خان خٹک نے مغل شہنشاہ اورنگزیب کی طاقتور فوجوں کو چیلنج کیا اور مغلوں کو کئی لڑائیوں میں شکست دی. وہ ایک معروف فوجی جنگجو تھا اور ایک وقت میں مغل فوج کا سپاہ سالار بھی تھا، مغلوں کے خلاف بغاوت کے بعد ان کو جیل میں ڈالا گیا اور جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے مغلوں کے خلاف ہونے والی جدوجہد آزادی کو فروغ دیا۔

خوشحال خان خٹک کو بطور شاعر طور پر جانا جاتا ہے. خوشحال بابا کا موقف، جنگی رویہ اور اقوال افغانستان بالخصوص بشتون قوم کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، شعر اور نثر کے کام کے علاوہ خوشحال بابا نے فارسی اور عربی سے پشتو میں مختلف ترجمہات بھی لکھے ہیں، ایک اندازے کے مطابق خوشحال بابا نے اپنے دور میں میسر تقریباً تمام کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.
یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!