ضِلع کرک

کرک صوبہ خیبر پختونخواہ کے کوہاٹ ڈویژن کا ایک ضلع ہے. یہ پشاور سے 123 کلو میٹر
کے فاصلے پر واقع ہے. یہ کوہاٹ کے جنوب ، بنوں اور لکی مروت کے شمال کی طرف مین انڈس ہائی وے پرواقع ہے. اس نے 1982 میں ایک ضلع حیثیت حاصل کی، جس سے قبل یہ کوہاٹ ڈسٹرکٹ کا حصہ تھا. 1998 کی مردم شماری میں شمار شدہ آبادی 431،000 تھی، جبکہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی 706,299 ہے۔ 1998 سے 2017 کے درمیان سالانہ شرح آبادی 2.6 فیصد رہی ہے.

مرکزی زبان پشتو ہے, جبکہ 99.7 فیصد باشندے پشتوزبان بولتے ہیں. 99 فیصد لوگ خٹک قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں. تعلیم کی شرح 99 فیصد ہے. یہاں کے لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں. جسکی وجہ سے یہاں کاشتکاری کا رواج بہت کم ہی رہ گیا ہے. یہاں کے لوگ ملک کے مختلف شعبوں (چاہے فوج ہو یا سول گورنمنٹ) میں اعلیٰ عہدوں پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں.

کرک بہت سے قدرتی وسائل سے مالامال ہے. یہاں جپسم, نمک جیسے کئی اور قیمتی معدنیات پاۓ جاتے ہیں. حال ہی میں تیل، گیس، اور یورینیم کے ذخائر دریافت کۓ گۓ ہیں. مکوڑی، نوشپہ بانڈہ، گرگوری اور لاچی کے حدود میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوۓ ہیں.

کرک ضلع میں تیل اور گیس کے ذخائر کی پیداوار روزانہ کی بنیاد پر 7000 بیرل تیل اور 2500 کیوبک فٹ ہے, جو کہ پورے ملک میں ایک کنویں کی ریکارڈ پیداور ہے. ضلع کرک نوشپہ کے علاقے میں تیل اور گیس کا وسیع ذخیرہ پاکستان کی حکومت کو روزانہ لاکھوں روپے آمدنی دے رہا ہے. ضلع کرک معدنی وسائل پر ملک کا بڑا انحصار ہے, یہاں قومی اور بین الاقوامی کمپنیاں جیسے “او جی ڈی سی ایل” اور “مول” ضلع کے مختلف علاقوں میں کام کر رہی ھیں، جبکہ مزید تیل اور گیس کی تلاش میں بھی مصروف ہیں.

انٹرنیشنل ایٹمی انفارمیشن سسٹم کی طرف سے کئے گئے ایک سروس کے مطابق، تحصیل تخت نصرتی، شنوہ گوڈی خیل اور ضلع کرک، کےمختلف ذرائع سے حاصل کئے گئے پانے کے نمونے ٹیسٹ کئے۔ جس میں یورینیم کی کافی مقدار پائی گئی. اس مطالعہ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا، کہ کرک میں ایشاء کا سب سے بڑا اور بہت قیمتی یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے.

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.
یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!