ارزم ضیاء کا بلاگ – قصوروار

ہر انسان بدلہ لیتا ہے، ہر انسان ۔ چاہے وہ غصے سے لے، چاہے میٹھے بول سے لے،چاہے خاموشی سے لے، چاہے تو باتوں سے لے۔ چاہے بتا کر لے، چاہے بنا بتاۓ لے۔ بدلے کا مقصد بس دل جلانا ہوتا ہے اور اس دل کو جلانے کے سو ہنر بڑے بڑے ہاتھوں میں ہیں۔ ہاں بس کسی کے ہاتھ سیاہ ہو جاتے ہیں کسی کے سفید ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ لازمی نہیں ہے مارنے کے لیے زہر دیا جائے۔ زہر تو بس انہی کو ہی دیا جاتا ہے جو کڑواہٹ سے مرے۔ کچھ لوگ زہر گڑ کی شکل میں دیتے ہیں تا کہ بندہ مٹھاس سے ہی مر جائے۔ کیونکہ مقصد تو بس آنکھوں کو جلانا ہوتا ہے وہ کڑواہٹ کی آگ کے دھوئیں سے جلیں یا گڑ کی آنچ سے۔ آنکھوں کے راستے اگر تپش دل میں پہنچ جائے تو پھر دل جلے بھی نا تو اور کیا کرے؟ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کوئی اگر صبر کے گھونٹ پی کر خاموشی سے چلتا رہے تو ہم سے یہ بھی برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی خاموش کیوں ہے، کوئی دل پر پتھر رکھ کر جانے لگتا ہے تو ہم اسکو رسیاں باندھ دیتے ہیں، کوئی سکوت میں ہو تو اسے جھنجھوڑنا شروع کر دیتے ہیں، اکساتے ہیں۔ پھر جب کوئی چیخنا شروع کر دے، رونا شروع کر دے، بولنا شروع کر دے تو ہم اسے کسی جانور کے بھونکنے سے مشابہت دے کر رسوائے زمانہ بنا دیتے ہیں، پاگل بنا دیتے ہیں، قصوروار بنا کر کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتے اور پھر،۔ تماشا دیکھتے ہیں۔ کیونکہ مقصد تو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے اور وہ مقصد بھی پورا ہو جاتا ہے اور دل کو تسلی بھی رہتی ہے کہ میں نے اپنا فرض پورا کیا۔ کیونکہ لوگ تو اینڈنگ دیکھ کر سٹوری بھول ہی جاتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
شیئر کریں

ارزم ضیاء کا بلاگ – قصوروار” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!