برطانیہ: قرنطینہ میں مسلمانوں کو حلال خوراک فراہم کرنے کا حکم

برطانوی حکومت نے قرنطینہ میں پاکستانیوں کو سحری اور افطار میں حلال غذا فراہم کر نے کا حکم دے دیا ہے۔ اس بات کی ہائیکورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی۔

اس فیصلے کا اطلاق قرنطینہ میں موجود ہزاروں مسلمانوں پر ہوگا، عدالت نے حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ مدعی کو دن میں ایک کے بجائے دو بار آئوٹ ڈور ایکسر سائز کر نے کی اجازت دے۔ دن بھر ایک کمرے تک محدود رہنے کے باعث ان پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور وہ اعصابی دبائو کا شکار ہو رہے ہیں۔

جج نے روبینہ راجہ کو حلال غذا دینے کا حکم دیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مسز راجہ جب ہیتھرو ائیر پورٹ پہنچیں تو انہیں ایک سیکورٹی گارڈ فراہم کر دیا گیا اور وہ خاتون اس کی مرضی کے بغیر نقل و حرکت نہیں کرسکتی تھیں۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ وہ سحری اور افطار کے مخصوص اوقات میں انہیں کھانا فراہم نہیں کرسکتے جبکہ انہیں یہاں تک کہا گیا کہ چہل قدمی کے لئے انہیں ہوٹل انتظامیہ کی پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

انہیں بتایا گیا کہ دس روزہ قیام کے دوران ہوٹل کا عملہ ان کے کمرے کی صفائی بھی نہیں کرے گا۔ فدا چوہدری نے بتایا کہ وہ یہ کیس لے کر عدالت گئے اور عدالت نے فوری طور پر مسلمانوں کو قرنطینہ میں حلال غذا کی فراہمی اور ضروری چہل قدمی کی اجازت دینے کا حکم دے دیا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!