روس نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے پر پابندی اٹھالی

 

کراچی: روس نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے پر 11 جون 2021 سے پابندی اٹھا لی ہے۔روس کے پلانٹ پروٹیکشن کے ادارے روزل خوزنادز ورنے اپنے خط میں وزارت نیشنل فورڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے ماتحت ادارے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر ٹیکنکل محمد سہیل شہزاد کو پاکستان سے چاول کی درآمد سے باضابطہ پابندی اٹھانے سے آگاہ کیا۔

روس نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے پر 11 جون 2021 سے پابندی اٹھا لی ہے

ابتدائی طور پر روسی پلانٹ پروٹیکشن ادارے نے پلانٹ پروٹیکشن کے سفارش کردہ چاول پروسیسنگ اور برآمد کرنے والے چار یونٹس سے روس میں چاول درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ جن میں دو کارخانے کراچی میں واقع ہیں اور ایک لاہور اور ایک چنیوٹ میں ہے جب کہ روس نے دیگر چاول پروسس اور برآمد کرنے یونٹس اور برآمد کنندگان سے روس میں چاول کی درآمدان یونٹس کی پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ادارے کی سفارش اور آن لائن معائنہ اور تصدیق سے مشروط کیا۔

روس کے پلانٹ پروٹیکشن کے ادارے نے 16مئی 2019 کو چاول کی ایک کنسائنمنٹ سے کیڑا نکلنے پر پاکستان سے مذید چاول کی درآمد پر پابندی لگادی تھی جس پر وزارت قومی خوراک اور ان کے ماتحت ادارے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن پاکستان نے اس معاملہ کی تحقیق کرکے وجوہات کو معلوم کیا اور ان وجوہات کا روس کے پلانٹ کے پروٹیکشن کے ادارے کے ساتھ تبادلہ کیا اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے ایک جامع فائٹو سینٹری رہنمائی پروگرام بنایا اور پھر اس کو چاول پروسیسنگ فیکڑیوں اور یونٹس لاگو کردیا اور پروگرام کو روس کے ادارے کیساتھ بھی تبادلہ کیا۔

5اگست 2019 کو محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کو بتایا گیا کہ وہ پاکستان سے چاول کی درآمد پر پابندی اٹھانے کیلئے تیار ہے اگران ٹیکنکل ایکسپرٹس پاکستان میں آکر پروگرام کی لاگو ہونے کی تصدیق کریں اور پاکستان پلانٹ کوارنٹائین سسٹم کا معائنہ کیا۔اس پر وزارت قومی تحفظ خوراک اور پلانٹ پروٹیکشن محکمہ نے روس کے ماہرین کو پاکستان باضابطہ مدعو کیا تاکہ وہ جامع پروگرام کے لاگو ہونے کا خود معائنہ کریں لہذا روس کے چار رکنی وفد نے 22 جنوری 2020 تک پاکستان کا دورہ کیا اور پلانٹ پروٹیکشن محکمہ کی سفارش کردہ چاولوں کے چار پروسسنگ یونٹس کا معائنہ کیا اور عائد فائٹو سینٹری پروگرام کا معائنہ کیا۔

اس کے بعد روس نے پاکستان میں چاول کی کاشت کے علاقے اور کاشتکاروں کے بارے میں معلومات اور فارم سے لے کر پورٹ تک ان کے مکمل سراغ کا طریقہ کا ر پوچھا جس پر پلانٹ پروٹیکشن نے تمام معلومات روس کے ادارے کو فراہم کی جس پر انہوں نے پاکستان سے چاول سے درآمد کرنے پر پابندی اٹھالی۔

پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکڑ جنرل اللہ دتہ عابد اور ڈائریکر ٹیکنکل کوارنٹائین محمد سہیل شہزاد نے اس پابندی کو اٹھانے کے روس کے ہم منصب ادارے سے مذاکرات کئے اور ان کی تمام ٹیکنیکل سوالات کے جوابات دیئے اور ضروری معلومات فراہم کی۔

دوسری جانب چاول کی ایکسپورٹرز کو فائٹو سینٹری پروگرام پر رہنمائی دی جو بالا آخر پابندی اٹھانے کی وجہ بنی۔ پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن محکمہ کے ڈائریکڑ ٹیکنکل نے بتایا کہ ان تمام پروسسنگ یونٹس کو روس سے منظور کروایا جائے گا جو پلانٹ پروٹیکشن کی فائٹو سینٹری پروگرام کو اپنے پروسسنگ کارخانوں پر عائد کریں گے۔

پابندی کے خاتمے کی وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹرز ڈیڑھ سے دو سو ملین امریکی ڈالر کا تقریبا دو سے ڈھائی لاکھ ٹن چاول کو روس کو برآمد کرسکیں گے یوں پاکستان کو ایک کثیر زر مبادلہ حاصل ہوگا۔ چاول ایکسپورٹر ایسو سی ایشن پاکستان اور کاشتکار تنظیموں نے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن اور وزرات قومی تحفظ خوراک کی اس شاندار کامیابی اور شب و روز محنت پر وفاقی وزیر فخر امام، وفاقی سیکریڑی غفران میمن، ڈی جی اللہ دتہ عابد اور ڈائریکڑ ٹیکنکل محمد سہیل شہزاد اور ناصر حمید ٹریڈ منسٹر پاکستانی ایمبسی روس کی کاوشوں کی تعریف کی ہے اور اسے پاکستان کی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!