افغان فورسز

طالبان کے ساتھ لڑائی: 46 افغان فوجی سرحد پار کرکے پاکستان پہنچ گئے

افغان نیشنل آرمی (اے این اے) کے کمانڈر نے پاکستان آرمی سے افغان فوجیوں اور بارڈر پولیس کے پانچ افسران سمیت 46 اہلکاروں کو پناہ دینے اور محفوظ راستہ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
پیر کے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنی پریس ریلیز میں بتایا کہ ’چترال کے ارندو سیکٹر کی دوسری جانب تعینات افغان نیشنل آرمی کے کمانڈر نے افغان سپاہیوں کو پاکستانی فوج سے پناہ اور محفوظ راستہ دینے کی درخواست دی ہے۔‘
افغان نیشنل آرمی کے کمانڈر کے مطابق ’وہ افغانستان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال میں پاکستان کی سرحد سے متصل فوجی پوسٹوں پر کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکتے۔‘
پریس ریلیز کے مطابق ’یہ افغان سپاہی اتوار کی رات چترال میں واقع ارندو سیکٹر پہنچے ہیں۔ پاکستان کی فوج نے افغان حکام سے رابطے اور ضروری کارروائی کے بعد ان سپاہیوں اور افسران کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی اور انہیں فوجی روایات کے مطابق کھانا، رہائش اور ضروری طبی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’ان سپاہیوں اور افسران کو ضروری کارروائی کے بعد باوقار طریقے سے افغان حکومت تک واپس پہنچایا جائے گا۔‘
اس سے قبل یکم جولائی کو بھی 35 افغان سپاہیوں نے پاکستان آرمی سے پناہ اور محفوظ راستے کی درخواست کی تھی اور انہیں پاکستان نے محفوظ راستہ دینے کے بعد افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا میں تیزی کے بعد طالبان اور افغان فورسز میں جھڑپیں جاری ہیں۔ طالبان نے گذشتہ دنوں پاکستان کے ساتھ متصل سرحد پر واقع علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

سمیع اللہ خان ایک نوجوان بلاگر ہیں جو سماجی مسائل، حالات حاضرہ کے علاوہ اصلاحی طنز و مزاح بھی لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ’خوشحال‘ کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!