کراچی کے ساحل پر دھنسنے والے کارگو بحری جہاز کے کمپنی نے تاحال حکومت پاکستان سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟

Karachi Cargo ship
ترجمان کے پی ٹی کے مطابق مذکورہ بحری جہاز کے لنگر ٹوٹنے اور سمت کھونے کے حوالے سے انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا۔

کراچی کے ساحل پر ریت میں دھنسنے والے کارگو جہاز ہینگ ٹونگ 77 کو نکالنے کے لیے ممکنہ طور پر بین الاقوامی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی، جس کا فیصلہ بحری جہاز کی مالک کمپنی کرے گی تاہم اس حوالے سے ابھی تک پاکستانی حکام سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ جہاز کے دھنسنے یا خرابی کی صورت میں اسے نکالنے کی تمام تر ذمہ داری بحری جہاز کے مالکان پر عائد ہوتی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کے پی ٹی ترجمان شارق امین کا کہنا تھا کہ مذکورہ جہاز کراچی کی بندرگاہ کی حدود سے باہر ہے اور اس حادثے کی وجہ سے بندرگاہ میں جہازوں کی آمد و رفت کسی صورت متاثر نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:

’پاکستان اور افغان طالبان کے رابطے‘ کے بعد سرحدی راہداری کھل گئی

کراچی: بینک میں لاکر کے تالے کاٹ کر کروڑوں کے زیورات چوری

ککراچی پبلک ٹرانسپورٹ دنیا کی بدترین ٹرانسپورٹ قرار دی گئی

بدھ کی صبح خراب موسم اور تیز ہواؤں کے باعث کراچی کی بندرگاہ سے کچھ دور عملے کی تبدیلی کی غرض سے لنگر انداز بحری جہاز ہینگ ٹونگ 77 (آئی ایم او نمبر 8662631) کا لنگر ٹوٹ گیا اور جہاز کا انجن تیز ہواؤں کے باعث جہاز کو قابو نہ کر سکا جس کے نتیجے میں بحری جہاز کراچی کے ساحل سی ویو پر آکر دھنس گیا۔

ترجمان کے پی ٹی کے مطابق مذکورہ بحری جہاز کے لنگر ٹوٹنے اور سمت کھونے کے حوالے سے انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا تاہم تب تک وہ ساحل کی طرف جا چکا تھا اور انتہائی کم گہرے پانی میں جا کر دھنس گیا جس کے بعد اسے واپس نکالنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ کے پی ٹی کا عملہ سمندری آلودگی کے حوالے سے جہاز کے اطراف کا معائنہ کر رہا ہے تا کہ جہاز دھنسنے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

ہینگ ٹونگ 77 ایک ڈیک کارگو جہاز ہے جس نے 2010 میں پہلا سمندری سفر کیا۔ 11 سال پرانا یہ جہاز پانامہ میں رجسٹرڈ ہے۔ اس وقت یہ جہاز سامان سے لدا ہوا ہے اور چین کی بندرگاہ شنگھائی سے اپریل میں روانہ ہوا تھا اور اس کی منزل ترکی کے شہر استنبول کی بندرگاہ تھی جہاں اسے اگلے ہفتے پہنچنا تھا۔

کے پی ٹی ترجمان شارق امین نے بتایا کہ جہاز کو نکالنے کے لیے ممکنہ طور پر جہاز کے مالکان کسی بین الاقوامی کمپنی کی خدمات حاصل کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک جہاز کے مالکان کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، اس سلسلے میں کراچی پورٹ ٹرسٹ صرف اسی صورت میں مدد فراہم کرے گی اگر اسے باضابطہ طور پر درخواست موصول ہوتی ہے۔

کارگو بحری جہاز
سال 2003 میں بھی ایسا ایک واقعہ رونما ہو چکا ہے۔ (فوٹو: ڈان نیوز)

انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہ میں کسی قسم کے حادثے اور آمد و رفت میں رکاوٹ کی صورت میں پورٹ ٹرسٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن مذکورہ جہاز چونکہ بندرگاہ سے کافی دور ساحل پر دھنسا ہے اس لیے یہ پورٹ ٹرسٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق بدھ کو جہاز پھنسنے کے بعد پاکستان کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور بحریہ کی مختلف ٹیموں نے جہاز کو واپس کھلے پانیوں میں دھکیلنے کی کوشش کی تھی تاہم مذکورہ جہاز اس قدر کم پانی اور ریت میں جا چکا تھا کہ کوئی دوسرا جہاز اس تک نہیں پہنچ سکا۔

ہینگ ٹونگ 77 پر چونکہ اس وقت کنٹینرز لوڈ ہیں اس لیے اسے رسوں کی مدد سے کھینچ کر نکالنا بھی ناممکن ہے۔

اس سے قبل 2003 میں آئل ٹینکر جہاز تسمان سپرٹ اسی مقام پر دھنسا تھا جس سے تیل رسنے کی وجہ سے کراچی کے ساحل پر بے حد گندگی اور آلودگی ہوئی تھی اور سمندری حیات کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے مزید کہا کہ جہاز کے دھنسنے سے ہونے والے نقصانات اور ماحولیاتی اثرات کا ازالہ بھی جہاز کے مالکان کو ادا کرنا ہوگا۔

شیئر کریں

کراچی کے ساحل پر دھنسنے والے کارگو بحری جہاز کے کمپنی نے تاحال حکومت پاکستان سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

سمیع اللہ خان ایک نوجوان بلاگر ہیں جو سماجی مسائل، حالات حاضرہ کے علاوہ اصلاحی طنز و مزاح بھی لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ’خوشحال‘ کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!