‘ایبٹ آباد آپریشن کے دوران امریکی کمانڈوز پشتو بول رہے تھے’

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن، 2 مئی سال 2011 کو ایبٹ آباد میں ہلاک کئے گئے۔

2 مئی سن 2011 کو ایبٹ آباد کے بلال ٹاون میں ایک کمپاؤنڈ میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ایک آپریشن کے دوران القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن ہلاک کئے گئے۔

اسامہ بن لادن کا یہ کمپاؤنڈ پاکستان آرمی کے کاکول اکیڈمی سے 5 منٹ کی مسافت پر تھا۔

یہ آپریشن افغانستان سے آئے ہوئے امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں کیا گیا تھا اور سرکاری طور پر پاکستان کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ایک پشتون ڈاکٹر شکیل آفریدی نے امریکی حکام کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی اس کمپاؤنڈ میں موجودگی کی اطلاع دی تھی۔

امریکی آپریشن کے بعد امریکی حکام کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستانی حکام کے ہاتھوں بعد میں گرفتار بھی ہوئے۔

اس واقعہ کے حوالے سے کئی عجیب سی چیزیں سامنے آتی جاتی ہیں مگر اس پر کوئی خاص دیہان نہیں دیتا کیونکہ واقعہ کو اب 11 سال گزر چکے، مگر منظر عام پر آنی والی یہ چیزیں غیرمعمولی بلکل بھی نہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا کے ایک پلیٹ فام ‘ٹی سی ایم اوریجنل’ کی جانب سے ایک پاکستانی صحافی کی ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں وہ کئی انکشافات دیکھائی دیتے ہیں۔

پاکستانی صحافی طاہر محمود کی جانب سے ‘ٹی سی ایم’ کو بتایا گیا ہے کہ امریکی کمانڈوز جو ایبٹ آباد آپریشن کا حصہ تھے پشتو میں بات کر رہے تھے۔

طاہر محمود نے بتایا، “جب امریکی ہیلی کاپٹر ہوا میں گشت کر رہے تھے تو وہاں کی آبادی کافی حیرتزدہ تھی، کیونکہ انہوں نے نہ تو کبھی اس سے قبل اس قسم کی گشت دیکھی تھی اور نہ ہی ایسا کبھی وہاں پر فوجی مشق ہوا تھا’۔

طاہر محمود کے مطابق وہاں پر موجود ایک عینی شاہد نے ان کو بتایا کہ، “ہم قافی گھبرائے ہوئے تھے، ہیلی کاپٹر ہمارے گھر کے چھتوں کے کافی قریب گشت کر رہے تھے”۔

ڈیجیٹل میڈیا کو انٹرویو کے دوران پاکستانی صحافی طاہر محمود نے واقعہ کے حوالے سے مزید بتایا کہ وہاں پر کچھ اور عینی شاہدین سے جب میری بات ہوئی تو انہوں نے بتایا،

“ہیلی کاپٹرز کے گشت کے بعد ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی، ایک نوجوان کو لگا کے باہر کوئی میری گاڑی کے ساتھ چیڑ چاڑ کر رہا ہے، اس لیے وہ باہر نکلا، اس دوران وہاں پر موجود ایک امریکی کمانڈو نے اس نوجوان کو پشتو میں کہا ( زا دلتہ نا) یعنی یہاں سے چلے جاؤ”۔

طاہر محمود کے مطابق اس نوجوان نے اسے بتایا کہ وہاں پر موجود باقی امریکی کمانڈوز بھی پشتو میں ہی بات کر رہے تھے۔

صحافی طاہر محمود کے مطابق رپورٹ میں جو بتایا جارہا ہے عینی شاہدین کے مطابق وہ سچ نہیں ہے۔

اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد کمپاؤنڈ میں آپریشن کے دوران تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کی بارے میں عینی شاہدین کا موقف ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر امریکی کمانڈو کی دوسری ہیلی کاپٹر نے مار گرایا۔

اس تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کے اندر سے اس ہیلی کاپٹر پر فائر ہوا جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔

پاکستانی صحافی طاہر محمود نے اس حوالے سے بتایا کہ امریکی ہیلی کاپٹر نے دوسرا ہیلی کاپٹر شاید اس لیے گرایا ہو تاکہ وہ اسامہ بن لادن کی جانب سے مزاحمت کو دیکھا سکے۔

طاہر محمود کے مطابق اس کمپاؤنڈ کے دیواریں 12 فٹ اور کنکریٹ کے تھے، وہاں پر خاردار تاریں لگی تھی۔ اس ہیلی کاپٹر پر حملہ کے دوران ان دیواروں کو اور نا ہی وہاں کی کسی دروازے یا گیٹ کو کوئی نقصان پہنچا۔

ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اس کمپاؤنڈ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

اس علاقے کو سیل کر دیا اور وہاں پر موجود صحافیوں کو کمپاؤنڈ سے قریب ایک کلومیٹر کے فاصلے پر روک لیا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ یہاں سے آگے آپ نہیں جا سکتے۔

ایبٹ آباد آپریشن کے قریب ایک ہفتہ بعد پاکستان فوج کے ہاتھوں اس کمپاؤنڈ کو مکمل زمین بوس کر دیا گیا، اور وہاں ایک پلاٹ کی صورت زمین خالی کی گئی۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!