‘یورپی پارلیمنٹ کا پاکستان مخالف قرارداد: ‘پاکستان میں توہین رسالت کے قانون پر اقلیتوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے

یورپی پارلیمان میں منظور ہونے والی قرارداد میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ پاکستان میں لاگو توہین رسالت کے قانون کے تحت ابھی تک کسی بھی مجرم کو موت کی سزا نہیں دی گئی ہے، کہا گیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے ’اقلیتوں کو خوف زدہ‘ کیا جاتا ہے ان پر ’تشدد کیا جاتا ہے‘ اور ’توہین رسالت کا الزام لگا کر اقلیتی برادری کے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔‘

قرارداد میں پاکستان میں فرانس کی حکومت کے خلاف حالیہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کی قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کرنے سے متعلق قرارداد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے فرانس میں ایک سکول ٹیچر پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کیے گئے حکومتی اقدامات پر تنقیدی بیانات میں اضافہ ہوا ہے۔

قرارداد میں مذہبی و سیاسی کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ حکومت کو اس جماعت کی طرف سے تشدد کے استعمال کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہیے۔

اس میں فرانس کے خلاف پاکستان میں ہونے والے مظاہروں اور ‘حملوں’ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے اور پاکستان میں پائے جانے والے ’فرانس مخالف جذبات‘ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث فرانسیسی شہریوں اور فرانسیسی کمپنیوں کو عارضی طور پر پاکستان سے نکلنا یا محتاط رہنا پڑا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے کالعدم ٹی ایل پی کے مطالبے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد جماعت کی قیادت نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یورپی یونین کی قرارداد میں خصوصی طور جس توہین مذہب کے کیس پر خدشے کا اظہار کیا گیا وہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینول کا ہے۔ قرارداد میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینول کے خلاف توہین رسالت کے الزامات کے تحت سنائی گئی موت کی سزا کو واپس لے کر ان کو فوری طور پر رہا کریں۔

شفقت ایمینول اور شگفتہ کوثر کو سنہ 2014 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینول کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ انھیں تمام طبی سہولیات مہیا کریں۔

قرارداد میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے ایک حالیہ فیصلے کو خوش آمدید کہا گیا ہے جس میں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کو موت کی سزا دینے پر پابندی لگا دی ہے۔

یورپی یونین نے پاکستان میں سزائے موت کے قانون پر موقف کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ موت کی سزا پانے والے تمام مجرموں کی سزا ختم کرے اور ان کو صاف اور شفاف انصاف مہیا کیا جائے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!