تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج، شاہراہوں کو آمدورفت کیلئے بند کر دیا

لاہور: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری پر تنظیم کے مرکزی رہنماؤں نے کارکنوں کو ملک بھر میں احتجاجاً سڑکیں بند کرنے کی کال دی، جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ملتان سمیت کئی بڑے شہروں میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے سڑکیں بند کر دیں۔

تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کی جانب سے احتجاجاً سڑکیں بند کرنے سے عوام کو بدترین ٹریفک جام کا سامنا رہا۔ ٹی ایل پی کے کارکنوں نے جی ٹی روڈ کو بھی مظاہروں اور ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دیا ہے۔

پنجاب کے شہر لاہور میں کئی مقامات پر ٹی ٹی پی کے کارکنوں کے ہاتھوں کی اہم شاہراہیں بند ہیں، لاہور پولیس نے احتجاج ختم کرنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے کچھ مقامات پر آنسو گیس کا استعمال بھی کیا، اسی کچھ مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔

قبل ازیں تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی نے اس حوالے سے کہا تھا کہ اگر پاکستان حکومت نے 20 اپریل سے قبل فرانس کے سفیر کو ملک بدر نہیں کیا تو اس حوالے سے 20 اپریل کو ملک بھر میں تحریک لبیک پاکستان احتجاج کرے گی۔

تحریک لبیک کے رہنما حسن بٹ نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ 20 اپریل کو احتجاج کی کال صرف یہ تاثر دینا تھا کہ مغرب کو پتہ چل سکے کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہمارے دل میں جو محبت ہے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے۔

ٹی ایل پی رہنما حسن بٹ کے مطابق اس سے قبل فرانسیسی صدر کے گستاخی پر مبنی کلمات کے خلاف جو ہم نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا اس وقت حکومت نے ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا تھا، اس کے بعد ہمارا اور حکومت پاکستان کے مابین ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت حکومت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا طریقہ کار تلاش کرکے فرانسیسی سفیر کو جلد ملک باہر بھیجا جائیگا۔

یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کو آج لاہور میں پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا، اس کے بعد تحریک لبیک مرکزی قائدین نے احتجاج کی کال دی تھی۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!