سمیع خٹک کا بلاگ “بیمار معاشرہ”

انسان کی ذہنیت اس کے اعمال کی بنیاد ہوتی ہے اور یہ بنیاد وہ ماحول بناتا ہے جس میں وہ انسان وقت گزارتا ہے۔ یہ ماحول ہمارہ معاشرہ ہوتا ہے۔ اب اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ معاشرے میں اچھے اور سچے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے و بد تمیز بھی۔ اب یہ انحصار انسان پر ہے کہ کس طرف راغب ہوتا ہے اور کیسے اپنے زندگی کے سفر کی منزل کا تعین کرتا ہے۔ یہ سفر انسان کی زندگی ہوتی ہے یعنی وہ طریقہ کار ہوتا ہے جس پر کوئی فرد اپنی زندگی گزارتا ہے۔ یہاں میں مذہب کی بات بلکل نہیں کر رہا کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی مذہب کے مطابق زندگی نہیں گزارتا، بلکہ صرف ایک دیکھاوہ کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے مذہب کی خدمت کرنے کی بجائے مذہب کو اپنے تحفظ اور خود غرضی کیلئے استعمال کرتے ہیں

ہمارے ملک میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں، لوگ اخلاقیات کا درس تو دیتے ہیں مگر خود عمل نہیں کرتے۔ مرد اپنی مردانگی اور عورت اپنی آزادی ایک دوسرے پر تھوپ رہے ہوتے ہیں۔ جہاں پر اپنا فائدہ نظر آئے وہاں مذہب کے ایک مخصوص شِق کو اپنا لبادہ بنا لیتے ہیں، اور جہاں مذہب کسی بات سے ممانعت کرتا ہے وہاں عجیب و غریب دلائل سامنے آجاتے ہیں۔ بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو ہماری زندگیاں اس ریل گاڑی کی مانند ہیں جو یا تو پٹڑی سے کِسک چکی ہے یا ایسے ملاح کی طرح جو دو کشتیوں میں سوار ہو۔ یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمیں صرف وقتی طور کامیابیاں ملتی ہیں۔ ان وقتی کامیابیوں کا دورانیہ ان کامیابیوں کا موجب بننے والی خوشیوں کے دورانیے سے بھی کم ہوتا یے، اور پھر ہم واپس وہیں آنپہنچتے ہیں کہ جہاں سے شروعات کی ہوتی ہے۔

ہمارہ مریض معاشرہ مرنے مارنے پہ تیار ہے ،جو اللہ کا دین ہے رسول اللّٰہ جس دین کو زندہ کرنے آئے تھے اس پہ عمل کرنے کیلئے آج دنیا میں مسلمان تیار نہیں، بلکہ سارے کام عین انکی تعلیمات کے خلاف فخریہ کرتے ہیں۔ اصل میں‏ مذہبی انتہا پسندی صرف چند مدرسوں اور دہشتگردوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک وبا کی طرح پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے اور ہمیں اندر سے کھا رہی ہے۔ ان کی سرپرستی ریاست کر رہا ہے، ریاستی اداروں کو مذہبی انتہا پسندوں کی حمایت اور پشت پناہی ترک کرنا چاہیے۔ ان مذہبی انتہا پسندوں کی وجہ سے جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں غیر مذہب کے ماننے والوں کے ذہنوں میں اسلام کی ایک غلط تصویر بن رہی ہے۔ کچھ برائے نام مسلمان تو ذاتی خنس نکالنے کیلئے کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگا دیتے ہیں۔ ان الزامات کی وجہ سے کئی بےگناہ جان سے گئے اور ہمارے مذہب کے کچھ چمپین اس عمل کو دین کی خدمت کا نام دے دیتے ہیں۔ حالیہ بینک منیجر اور چوکیدار کا واقعہ اس کا زندہ ثبوت ہے۔

ہندو ایک خاص تہوار پر چھوٹی سی بچی کو دیوی بنا کر پوجتے ہیں اور عورت ذات کو عزت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہم بطور مسلمان اللہ کے سوا کسی کی بھی پوجا کو شرک سمجھتے ہیں اور عورت ذات کو بہت قابل احترام سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں چار سال کی بچی کا ماں سمیت اجتماعی ریپ ہوگا تو کیا یہ اسلام کی خدمت ہے پاکستانیوں کا سوچنا ہوگا کے نا ہی ان کی حرکتیں اسلامی ہیں نا ہی انکا اسلام سے کوئی تعلق معلوم ہوتا ہے۔ جو جتنا سکندر ہے اتنا ہی ظالم ہے۔ ہر فرد اپنی اوقات کے مطابق کرپٹ، بدعنوان اور چور ہے۔ ہر ایک نے اسلام کی آڑ میں اپنا مذہب، اپنے قوائد و ضوابط اور قانون بنا رکھا ہے۔ کچھ عرصہ قبل حکومت پاکستان نے جنسی استحصال کرنے والے افراد کے خلاف ایک قانون بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت وہ مرد حضرات جو کسی جسمانی استحصال کرتے ہیں خواتین کا ان کو نہ مرد بنایا جائے گا، تاہم اب تک کسی بھی واقعے میں اس قانون کو عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔

مدرسوں اور کالجوں کے طلباء کے دلوں ایک دوسرے کیخلاف اتنا زہر بھر دیا کیا ہے کہ وہ ہر برائی کو ایک دوسرے سے منسوب کرتے ہیں اور اس میں رہتے ہیں کہ ہر برائی کی جڑ کالج والے اور مخلوط نظام تعلیم جبکہ کالج والوں کے مطابق برائیوں کی اکثریت مدرسوں سے ابھر آتی ہے۔ مدرسہ کے طلبہ جہاں مخلوط نظام تعلیم یا کالج اور یونیورسٹی کو فہاشی کے اڈے کی نظر سے دیکھتے ہیں، تو وہی کالج اور یونیورسٹی کے اکثر طلبا و طالبات مدرسوں کو ایک دہشت گرد تنظیم یا ایک دہشت گرد کے ٹریننگ سنٹر کی طرح سمجھتے ہیں۔ حالانکہ برائی کہ عنصر ہر جگہ موجود رہتے ہیں۔ میں نے ایک مولوی کو ایک بچے کا جنسی استحصال کرتے بھی دیکھا ہے اور ایک پڑھے لکھے پروفیسر کو اپنی طالبات کا جنسی فائدہ اٹھاتے بھی دیکھا ہے۔ آج ہی پشاور کے ایک یونیورسٹی کی طالبات اس بات پر احتجاج کر رہی تھی کہ ہمارے اساتذہ ہمیں اچھی جی پی اے، مارکس، گولڈ میڈل کے حصول، ریسرچ پیپرز کے حوالے سے مدد کیلئے طالبات سے جنسی مطالبات کرتے ہیں۔

آپ کو جان کر حیرانی ھوگی کہ بھیڑیا ترکی کا قومی جانور ہے۔ یہ ایک ایسا جانور ہے جو نا حرام کھاتا ہے اور نہ ہی اپنی ماں اور بہن جانوروں کو غلط نظروں سے دیکھتا ہے۔ ترکی میں اس جانور کو قومی ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ترک قوم کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس کے برعکس اگر ہم پاکستان کو دیکھیں تو ہمیں اس شعر بہت پسند ہے۔ یہاں میں آپ کو ایک بات بتاتا چلوں کہ گدھا ایک وزر جانور ہے اور اس جانور نے معاشرے کی بے پناہ خدمت کی ہے۔ اس کے برعکس شیر خونی اور درندگی سے بھر پور ایک وحشی جانور ہے جس نے ہمیشہ انسان کو یا تو مارا یا پھر زخمی کیا ہے۔ اس کے باوجود بھی ہمارے معاشرے میں شعر کو ایک فخر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ گدھے کو نیچ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہنارہ معاشرہ ایک طاقتور، جابر، ظالم کی قدر منزلت اور کمزور محکوم کی تذلیل کرتا ہے جو کہ ایک بیمار معاشرے کی خوبی ہے۔

 

شیئر کریں
براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!