محمد شعیب عادل کا بلاگ “آئی جی سندھ کے اغواء کی رپورٹ اور نوازشریف”

آئی جی سندھ کے اغوا کی انکوائری رپورٹ آگئی ہے ۔ بلاول نے مان لی ہے اور نوازشریف نے مسترد کردی ہے۔ منشیوں او رپٹواریوں کا ہدف ایک بار پھر بلاول بن گیا ہے۔

مجھے عمران خان کی وہ مشہور بڑھک یاد آگئی جب وہ کہا کرتاتھا کہ کہ اگر تم میرے ساتھ نہیں تو تم چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ ہو۔ یہی خیال قصیدہ خوانوں ، منشیوں اور پٹواریوں کا ہے کہ اگر ہمارے مطابق سیاست نہیں کرو گے تو بوٹ پالیشیے ہوگے ۔ حالانکہ اب تک کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ نواز شریف کو جب بھی موقع ملا انھوں نے اپوزیشن سے کیے معاہدے توڑ کر جرنیلوں کی خدمت ہی کی ہے۔اب بھی چند دن سلطان راہی کی طرح بڑھکیں مار کر ادارے کی تعریف کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ بطور ادارہ فوج کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اقتدار ہمارے پاس ہی رہے گا اور سیاسی پارٹیوں کو کیسے چلانا ہے یہ ہم بتائیں گے۔

بلاول بھٹو نے اپنے انٹرویو میں صرف اتنا ہی کہا ہے کہ بھئی یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ کی لڑائی ادارے سے ہے یا صرف ایک فرد سے؟اب نواز شریف کا ویثرن ہی اتنا ہےپہلے وہ جنرل پرویز مشرف کو پھانسی دینا چاہتا تھا اب جنرل باجوہ کے پیچھے ہے ۔جنرل باجوہ کو ہٹانے کا مقصد فوج کے اندر ایک دھڑے کی لڑائی کا حصہ بننا ہے ویسے ہی جیسے جنرل مشرف کو ہٹانے کے لیے نوازشریف ، کیانی اینڈ کمپنی کا ساتھ دینا شروع ہوگیا اور پھر ان کا سہولت کار بنا۔جنرل مشرف سے پنگا لے کر نوازشریف نے کونسا کارنامہ سرانجام دے لیا تھا بلکہ اپنے گھر کے تعینات کردہ ججوں نے اسے بے عزت کر کے نکالا۔

پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ فوجی اپنی اندرونی لڑائی خود لڑیں، اگر ایکسٹنشن مانگتے ہیں لیں اس سے فوج کو ہی اثر پڑے گا سیاست پر نہیں۔ سیاست پر سب ایک جیسے ہی ہیں،یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے جنرل مشرف کو بطور صدر قبول کرکے پرامن اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا، قانون سازی کی جبکہ نوازشریف کی طرح اسے پھانسی پر لٹکانے کی بڑھکیں نہیں ماریں۔ پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بغیر کسی سے مخاصمت کیے اقتدار میں آکر یا مخلوط حکومت کا حصہ بن کر ایسی قانون سازی کی جائے جس سے سویلین ادارے مضبوط ہوں، انہیں وسائل مہیا کیے جائے اور وہ اپنا کام کریں۔ میثاق جمہوریت کےمطابق قانون سازی کرکے کم ازکم ججوں کی تعیناتی کو تو درست کیا جائے جسے نواز شریف نے جنرل مشرف کے انتقام میں مسترد کر دیا تھا۔

اب تک کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم،صوبوں کو وسائل مہیا کرتی ہے اور فوجی اخراجات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ہمارے سقراط کو یہ علم نہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت مرکز نے پنجاب کے پانچ سو ارب روپے سالانہ دبا رکھے ہیں۔ یہ بھی بلاول بھٹو نے بتایا ہے کہ لیکن مجال ہے کہ نوازشریف اینڈ کمپنی نے ان وسائل پر بات کرنے کے لیے اپنا منہ بھی کھولا ہو؟ان کی توجہ صرف اور صرف جنرل باجوہ پر ہے۔

نواز شریف کو چاہیے کہ وہ ایک جرنیل کے پیچھے جانے کی بجائے دفاعی اخراجات کم کرنے کی بات کرے،سندھ والے تو اپنا حصہ لے رہے ہیں اور اپنا کام کر ہی رہے ہیں۔ اب پنجاب کے مارٹن لوتھر کنگ کو چاہیے کہ وہ پنجاب کے حصے یعنی پانچ سو ارب روپے لینے کی بات کرے۔

شیئر کریں
براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!