بصر علی کی تحریر ‘سرکاری کیپیسٹر’

 

جب کوئی نیا اپوائنٹ ہو کر آتا ہے تو کچھ عرصے تک ہم کافی جیلسی میں مبتلا رہتے ہیں، ابتداء کے دنوں میں نئے آنے والے لوگ کیا خوب پوشاک زیب تن کر کے آتے ہیں، انہیں دیکھ کر اپنا آپ سینئر کم، پرانا (ایمپلائی) زیادہ لگتا ہے، اس دفعہ کی سلیکشن میں بھی ہمارے ادارے میں کئی نئے لوگ آگئے تھے۔ ہاں مگر ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے حصے میں ایک اکلوتی ریحانہ آئی تھی، ریحانہ کی تعریف کیلئے یہی ایک جملہ کافی تھا کہ اسے دیکھ کر کسی عورت کا بھی مرد ہونے کو دل چاہتا ہے، اسکی ڈریسنگ سینس اسکے حسن میں مزید حرارت پیدا کردیتی تھی ، اتنا کہ اسے دیکھ کر دیا سلائی کے دماغ میں خود بخود آگ لگ جائے ، لیکن اسکی اپنی ذات کو اس حرارت کا کوئی فائدہ نہ تھا ، کیونکہ وہ جس ادارے میں کام کرنے آئی تھی وہ محض عورتوں کا ادارہ تھا بس کچھ ایک مرد تھے، اور اتنی حرارت کسی مرد کو تو موم کرسکتی ہے لیکن کسی عورت کو، کسی عورت کو صرف جلا سکتی ہے۔۔ ریحانہ نے اپنے سبجیکٹ میں گولڈ میڈل لیا اور پھر کئی ایک نجی قومی اور بین الاقوامی اداروں میں کام کر کے اب ایک سرکاری مگر خود مختار ادارے میں جاب حاصلِ کرنے کا معرکہ سر کرکے ہمارے ساتھ ہمارے سٹاف روم عرف آفس میں موجود تھیں، اسکی شکل پر عیاں تاثرات سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس پرانے بوسیدہ دفتر ، جسکا پلستر اور وائٹ واش تک ایکسپائر ہوچکا تھا میں اسکا دم کس قدر گھٹ رہا تھا ، لیکن وہ بھی پنشن اور مستقل نوکری کی لالچ میں ایک اچھےخاصے ادارے کو چھوڑ کر یہاں پھنس چکی تھیں۔۔ ابتدائی دنوں میں جب وہ کسی میٹنگ کے دوران بات کرتی یا کوئی سجیشن دیتی تو ایسا لگتا جیسے کہ وہ اپنے اندر موجود گھٹن سے لڑ رہی ہو اور کبھی کبھی تو اتنا جذباتی ہوجاتی تھی کہ جیسے وہ سب کچھ واقعی بدل دے گی، ایسی باتیں سن کر مجھے اپنے ابتدائی دن یاد آتے اور پھر میرے اندر ہی اندر قہقہے گونجنے لگتے جسکی بس ایک ہلکی سے لہر میرے ہونٹوں تک پہنچ کر مسکراہٹ کی شکل میں نمودار ہوجاتی، ریحانہ گرمی کے اوائل کے دن میں آئی تھی تب ہمارے آفس کے پنکھے کی پرفارمینس اطمینان بخش تھی لیکن گرمی کی شدت نے ہمارے پنکھے کو ہمارے سامنے شرمندہ کر دیا تھا ، سب غصے سے اوپر پنکھے کی طرف دیکھتے پھر ریگولیٹر کی طرف چل دوڑتے، پنکھا ٹھیک ہو، ریگولیٹر ایک نمبر بتا رہا ہو ، کمرے میں پڑے کاغذ وغیرہ سرک رہے ہوں لیکن وہاں موجود افراد کو ہوا نہ لگے تو پنکھے کی صحت پر شک ہوجاتا ہے، سینئر ساتھیوں (یعنی ہمارے) روئیے سے ریحانہ کو لگ رہا تھا کہ شاید ہمیں کوئی مسئلہ ہی نہیں بس مسئلہ صرف اسی کا ہے اور اسی کو ہے، ایک دن میں آفس آئی تو ریحانہ نے ڈیپارٹمنٹ کے peon کی مدد سے الیکٹریشن کو بلوایا تھا، ادھیڑ عمر الیکٹریشن جو تین چار ماہ بعد ریٹائر ہونے والا تھا نے پنکھے کو بالکل ویسے دیکھا جیسے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر مریض کو دیکھتے ہیں اور کہا “میڈم اس کا تو کیپیسٹر خراب ہے، آپ وہ منگوا دیں، ہم بدل دینگے”. ریحانہ کے رنگ میں فورا سے تغیر آگیا کہ ہم کیوں منگوائیں، یہ تو ادارے کی زمہ داری ہے، الیکٹریشن نے ریحانہ کی بات کاٹ کر کہا ، میم آپ اپنے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے کہہ دیں وہ بندوبست کر دینگے اور بنا کچھ سنے وہ چلا گیا، میں بس خاموش بیٹھی رہی اور ایسے پوز کر رہی تھی کہ میں مصروف ہوں اور مجھے اس مسئلے سے کوئی سروکار نہیں، ریحانہ غصے میں اٹھ کر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ(HoD) کے آفس کی طرف گئی اور 5 منٹ سے کم وقت میں واپس آکر خود کلامی کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ اب بندہ کیپیسٹر بدلنے کیلئے بھی درخواست لکھے، لیکن پھر بھی اس نے درخواست لکھ کر HoD آفس میں جمع کردی، وہ سوچ رہی تھی شاید اگلے دن کیپیسٹر آجائے گا، وہ دو ہفتے تک روز پوچھتی رہی لیکن درخواست ایک لمبے سفر پر نکل چکی تھی ، اب ریحانہ دل ہی دل میں اپنے پہلے دفتری معرکے میں شکست قبول کرچکی تھی ۔۔اور اس نے ایک دفعہ پھر peon سے کہہ کر الیکٹریشن کو بلوایا ، اس دفعہ ریحانہ کے سامنے ایک نوجوان لڑکا کھڑا تھا ، ریحانہ نے استفساریہ نظر سے peon کو دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ بھی الیکٹریشن ہی ہے اور آج اسکی ڈیوٹی تھی تو۔۔ ، ریحانہ نے اثبات میں سر ہلایا، اور اس نے اس نئے بندے کو ساری کہانی سنائی اور وہ ریحانہ کو ایسے لطف سے سن رہا تھا جیسے وہ اسے کوئی گانا سنا رہی ہو، اور آخر میں بس اتنا کہا “میڈم آپ نے کہہ دیا تو کام ہوگیا، آپ چاہیں تو پنکھا بدلوا دیتے ہیں” ، ریحانہ نے تعجب سے پوچھا “لیکن کیسے” اس نے مسکرا کر کہا ، میم جن آفسز میں اے سی لگے ہیں انکے لئے پنکھا کیا اور کیپیسٹر کیا، اور آپ کیلئے تو کچھ بھی؛ ہاں! بس کام آف ٹائم میں ہوگا” ریحانہ سامنے کھڑے مرد کا پگھلتا رویہ دیکھ کر زیرلب مسکرائی اور اسے شکریہ کہہ دیا، اگلے دن پنکھا خوب جوبن پہ تھا، ریحانہ بھی قدرے ریلیکس تھی، ہاں اسے اپنے پرانے آفس کے اے سی کی یاد ضرور ستاتی تھی ،لیکن عین جوانی میں بڑھاپے کی فکر ، پنشن اور مستقل ملازمت اسکی پیروں کی بیڑیاں بن چکی تھیں ، دن گزرتے گئے اور اب گرمی جاڑے کے سامنے ہار مان چکی تھی، پنکھے بند ہوچکے تھے، اور ایسے ہی ایک صبح جب ہم سب آفس میں موجود گپیں مار رہے تھے اور چائے کا انتظار کر رہے تھے، عین ایسی اثناء ایک بندہ داخل ہوا ، اور بولا میم یہاں کیسی نے کیپیسٹر بدلنے کی درخواست دی تھی کیا؟ ، ہماری نظر فورا اس بندے کے ہاتھ میں پکڑے کیپیسٹر پر پڑی ، ہم سب نے ریحانہ کو دیکھا اور پھر ہمارا کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا، حالت تھوڑی سنبھلی تو ریحانہ نے اس بندے سے کہا ، بھائی صاحب اب تو ہم نے ہیٹر لگوانے کی درخواست دی ہے ، اپنے آفس والوں سے کہہ دو کہ پلیز جون تک لگوا دیں.

شیئر کریں
براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

سمیع اللہ خان ایک نوجوان بلاگر ہیں جو سماجی مسائل، حالات حاضرہ کے علاوہ اصلاحی طنز و مزاح بھی لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ’خوشحال‘ کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!