رامین رعنا کی تحریر ”مشکلات سے ہارنا نہیں بلکہ بہادر بننا ہے“

 

لوگوں کی محفل میں اب ہوتی ہے رونقیں
ہمارے جانے کہ انتظار میں تھے کچھ لوگ
میں یہ سمجھتی تھی کہ جان ہو محفل کی
لیکن میں تو لوگوں کی بیزاری کا سبب تھی

رامین رعنا
یہ مصنفہ رامین رعنا کی فرضی عکس ہے۔

خود کو پہچان لینا سب سے مشکل کام ہے۔ ہم لوگوں کو تو پہچان سکتے ہے لیکن خود کو کبھی بھی نہیں۔ کسی کا سہارا لینے کے بجائے اگر ہم اپنی کوتاہیوں اور کمیوں کو صحیح کرنے کی کوشش کریں تو کوئی بھی اتنی ہمت نہیں کر سکتا کہ کوئی ہمیں ہرا پائے۔
میں اگر اپنی زندگی پر روشنی ڈالوں، تو میری زندگی باقی لوگوں کے نثبت کافی مختلف ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر کوئی نیا سبق سیکھنے کو ملا ہے۔
پہلے میں وہ لڑکی تھی جو لوگوں سے ڈرتی تھی، لوگوں کے سامنے جانے سے ہچکچاتے تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ بس یہ لوگ مجھے ابھی مار دینگے۔
لیکن جیسے ہی زندگی کے مشکلات و آزمائش سے سامنا ہوا تو میری زندگی آہستہ آہستہ بدلنے لگی۔ ہر موڑ پر، ہر غلطی سے کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ آج الحمدللہ مجھ میں اتنی ہمت آگئی ہے کہ میں یونیورسٹی کہ ہر سرگرمی میں حصہ لیتی ہوں اور الحمدللہ کامیاب بھی ہوجاتی ہوں ۔
ڈری سہمی سے لڑکی سے ایک ’کانفیڈنٹ‘ لڑکی بننے کا سفر طے کرنا بہت مشکل رہا۔ اس میں ایک ہی بات میں نے سیکھی ہے کہ جب تک ہم لوگوں سے امید باندھنے لگ جاتے ہیں کہ وہ ہمیں ان مشکلات میں سہارا دینگے تب ہی ہم ہار جاتے ہیں۔ کیونکہ لوگ آپ کو مصنوعی سہارا تو دے دیتے ہے لیکن اپ کو آگے بڑھنے نہیں دیتے، اور جب آپ ان سے آگے بڑھو گے تو آپ کو وہ اکیلا چھوڑ دینگے۔ کون چاہے گا کہ ان سے کوئی آگے بڑھے جو مقام کبھی ان کا تھا وہ کیسے وہ مقام آپ کو دے۔
میں یہ نہیں کہہ رہی کہ میں حد سے زیادہ بہادر ہوں لیکن ہاں! تھوڑی سی بہادر بن گئی ہوں۔ پہلے میں روتی تھی جب لوگ سہارا نہیں دیتے تھے۔ ابھی حال ہی میں مٙیں نے لوگوں پر اعتماد کیا کہ وہ سہارا دینگے میری مشکل میں لیکن ہوا اس کہ برعکس۔کچھ لمحوں کیلئے میں بہت ٹوٹ سی گئی تھی اور ابھی بھی اس ٹوٹنے کے زخم تازہ ہیں، ایک طرف میری امید ٹوٹی تو ایک طرف ایسا لگا کہ بس زندگی ختم ہی ہو جائے وہی کافی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ساتھ نہیں، جن کو حد سے زیادہ اہمیت دی انہیں لوگوں نے الزام لگا کر اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
لیکن امی کی نصیحت اور اللّٰہ کے کرم سے میں نے پھر سے اپنی زندگی کی طرف قدم بڑھایا۔
اس واقعے بلکہ ہر واقعے سے ایک ہی سبق سیکھا ہے کہ جب تک ہم لوگوں کے سہارے کی آس لی کے بیٹھیں گے تو ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ہم جب مشکلات کا سامنا اکیلے کرتے ہیں تو بہت کچھ نیا سیکھنے کو مل جاتا ہے اور آج میں بہت خوش ہوں کہ شکر ہے کہ لوگوں کے ساتھ ساتھ زندگی کو بھی صحیح پہچان لیا۔
ایک یہ بھی سبق سیکھا ہے کہ لوگوں کا جب تک مطلب ہو دلچسپی ہو اور جب تک ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہو گے تو آپ ان کے دل پر راج کرو گے۔ لیکن ایک غلطی کی وجہ سے یہی لوگ آپ کو اکیلا چھوڑ دینگے جو کل تک ساتھ تھے اور جو آپ کے خیرخواہی کے دعویدار تھے۔
کبھی مجھ سہ معصوم کوئی نہ تھا،
کبھی مجھ سہ وفادار کوئی نہ تھا،
اب مجھ سہ کم ظرف کوئی نہ ہے،
اب مجھ سہ فریبی کوئی بھی نہ ہے،
وقت اور لوگوں کی دلچسپی کی بات ہے۔ ورنہ ہم تو وہی ہیں جو پہلے ہوا کرتے تھے۔
لوگ جب تک آپ کہ ساتھ ہونگے آپ کی تعریف کریں گے اور جب لوگوں کو کوئی اور مل جاتا ہے تو وہی لوگ جو کبھی ساتھ تھے الزام لگا کہ چھوڑ دینگے۔ ہاں! غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے، مجھ سے بھی ہو جاتی ہے۔ لوگ خود کو بڑا مانتے ہیں لیکن بڑا وہ نہیں جو عمر میں بڑا ہو بلکہ بڑا وہ ہوتا ہے جس کی سمجھ بڑی ہو اور اعلیٰ ظرف والا ہو۔
اب غلطیوں سے اور لوگوں کے منافق رویوں سے اور ساتھ میں زندگی کی آزمائشوں سے ایک ہی بات سیکھی ہے کہ خود پر اعتماد کو ہمیشہ قائم رکھوں، لوگوں کے غلط رویوں سے ہار نہیں ماننی چاہیے بلکہ لوگوں کہ تلخ لہجوں اور زندگی کے آزمائشوں کو بنا سہارے خود فیس کروں۔

عمر تو اتنی نہیں کہ
جتنے الظام ہے ہم پر
جرم کا پتہ بھی نہیں
اور بدنام ہوئے ہیں ہم

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!