لقمان خان کی تحریر: اپنا بویا کاٹا جا رہا ہے.اپنا بویا کاٹا جائے گا

یہ سیاسی ابتلاء کوئی نئی نہیں یہ سیاسی انحطاط بھی کوئی نیا نہیں.یہ ہماری سیاست کی مقبول روایت رہی ہے.پاکستانی سیاست ابھی بلوغت سے کوسوں دور ہے.

سید منور حسن نے دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے متعلق کہا تھا کہ”مینیج“کرنے والے یہ مینڈیٹ دلا کے پچھتائیں گے کہ وہ کیا سیاسی کھلواڑ کر بیٹھے ہیں.اور بعد میں جس طرح سب کی الٹی آنتیں گلے پڑ گئیں..یہ ہم سب جانتے ہیں.سیاسی بازیگروں کے لئے یہ ہار جیت کا کھیل رہا ہے.مگر قوم..قوم بھی تو ہم نے ”شغلیہ “قسم کی پائی ہے.

قطع نظر اس سے کہ یہ افسانہ ہے یا حقیقت کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کی سزا جس قلم سے رقم ہوئی.وہ قلم آج بھی چوہدری برادراں کے پاس محفوظ ہے.چوہدری بردراں کا ماننا تھا کہ ان کے والد کا قتل بھٹو نے کروایا تھا.ٹھیک اسی طرح جس طرح جماعت اسلامی کے ایم این اے ڈاکٹر نذیراحمد کو قتل کروایا گیا اور بعد ازاں اس وقت کے جماعت اسلامی کے مرکزی امیر میاں طفیل کے ساتھ بھٹو انتظامیہ نے جو ناروا سلوک رکھا وہ ہر خرد و کلاں کو معلوم ہے.یہ موٹے موٹے واقعات ہیں تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں کیونکہ سیاسیات کا ادنی طالب علم ان واقعات سے بخوبی واقف ہے۔

جی ایچ کیو گیٹ نمبر 4 کے گملوں میں جب نوازشریف پک کر گرنے کو تیار اور بےتاب تھے تب وہ کوئی”نیلسن منڈیلا“نہیں تھا.لانے والے اس کا کندھا سیاسی انتقام کے لئے آزمانا چاہتے تھے.اور بعد کے ادوار میں یہ ثابت بھی ہوگیا کہ لانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے.

کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے میاں صاحب کے حق میں دعا کی تھی کہ ان کی عمر بھی اس کو لگ جائے.یہ شاید قبولیت کی کوئی گھڑی ہوگی.جنرل صاحب چلے گئے اور ورثے میں میاں صاحب کو چھوڑ گئے۔

یہ سیف الرحمن،سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ،یہ کن کے باقیات تھے.اور میاں صاحب کا ان کو تھپکانا اس کو کتنا بھاری پڑا.یہ آج ہی کی تو بات ہے.اور آج جب میں خان صاحب کے مشیران کو دیکھتا ہوں تو مجھے خان صاحب میں کل کا میاں صاحب ہی دکھتا ہے.

خان صاحب کچھ بھی نیا نہیں کر رہے ہیں.یہ وہی کچھ ہو رہا ہے جو اس ملک میں مسند اقتدار پر براجمان عناصر کرتے آئے ہیں. خان صاحب کو دعا کرنی چاھئے کہ کوئی جرنیل اس کو اپنی عمر لگنے کی دعا نہ کرے.کیونکہ ایسی دعائیں بڑی مہنگی پڑتی ہیں..مکافات عمل کی یہ پھیر خان صاحب پہ چلنے میں ذیادہ وقت لیتے دیکھائی نہیں دے رہی.کیونکہ اس بار”مینیج“کرنے والوں نے کچھ ذیاہ ہی کھلواڑ کیا ہے.

اگر کسی یہ لگتا ہے کہ ملک میں سیاسی انتقام کا کلچر اور سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کرنے کی روایت نئی ہے یہ ابتلاء و انحطاط نئے ہیں.تو وہ بھی پاکستانی سیاست اور جمہوریت کی طرح”نابالغ“ہی ہیں.اور رہیں گے

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!