ڈاکٹر عبدالودود خان کا بلاگ: فرشتہ بہار ، “چغار مې اوره”، تالاب میں پہلا کنکر

 

ضلع کرک خیبر پختونخوا میں دور، ضلع بنوں کے ساتھ سرحد پر ایک گاؤں ہے جس کا نام ہے لتمبر ! لتمبر شاعروں کی سر زمین ہے ۔ اس صدی کی دوسری دہائی سے پہلے تک یہاں لطافت کا دور تھا(پھر بد قسمتی سے کثیف جذبوں نے بھی اپنی جگہ بنا لی ) ۔

ڈاکٹر عبدالودود
ڈاکٹر عبدالودو خان : ضلع کرک، خیبرپختونخواہ کا نوجوان بلاگر جو زندگی کے مختلف شعبہ جات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

یہاں لوگ اسی خاک سے وابستہ سید حسن استاد اور شمس الزمان شمس صاحب کے اشعار محاوروں کی طور پر پڑھتے ہیں ۔ کہیں عمران صابر کی مترنم شاعری سننے کو ملتی ہے تو کہیں اشرف اللہ اشرف کانوں میں رس گھولتا نظر آتا ہے ۔

یہاں رحم زمان زلمے خٹک اسی کی دہائی سے اپنے بھرپور مدلل نثر سے ذہن پر نقش ڈالنے لگتے ہیں تو راشد افغان کی شاندار نثر جدید تجربات کا احاطہ کرتے ہوئے توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتی ہے ۔ یہ پیراگرف پڑھتے وقت اگر احباب اصولی طور پر محسوس کر رہے ہیں کہ اتنی علمی اور ادبی فضا میں بھی کیا پدر سری کو رواج ہے اور صنف مخالف کی آواز نشر نہیں ہوتی یا نہیں ہونے دی جاتی ؟؟ تو احباب درست سوچ رہے ہیں۔

لتمبر کی علمی اور ادبی فضا بھی اس تضاد سے بچ نہیں پائی ہے ۔ یہاں باوجود اس کے کہ ایک متحرک پلیٹ فارم لتمبر ادبی جرگہ کی صورت موجود ہے ، خواتین لکھنے والوں کا باقاعدہ ذکر تاریخی اعتبار سے موجود نہیں ہے ۔

لیکن اس تاریخی خلا کے ساکن تالاب میں پہلا کنکر پھینکا جا چکا ہے۔

کہیں پڑھا تھا کہ بصارت کے بغیر رنگ دیکھے نہیں جا سکتے ۔ صرف محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔ رنگوں کا لمس ایسے میں صرف انگلیوں کی پوروں پر اتارا جا سکتا ہے ۔ چہار جانب روایات کی چار دیواری میں دور سے آتی خوشبو کو دل میں سمویا جا سکتا ہے اور خوشبو کی تجسیم سے منظر تصور کے کینوس پر ڈھالا جا سکتا ہے ۔ رنگ کی خوشبو اور خوشبو کا رنگ محسوس کرنے کی صلاحیت مادی وجود کی حیثیت کو اضافی رکھ چھوڑتی ہے اور یہ بات ہمیں تب معلوم ہوتی ہے جب ہم فرشتہ بہار جیسی توانا آواز کو سنتے ہیں ۔ ان کے بھرپور لہجے کی حرارت کو محسوس کرتے ہیں ۔

فرشتہ بہار لتمبر کے صنفی طور پر ساکن ادبی تالاب میں پھینکا گیا پہلا کنکر ہے جس کی لہریں دور دور تک پھیل چکی ہیں ۔فرشتہ بہار لتمبر کرک سے تعلق رکھنے والی شاعرہ ہیں ۔ یہ شائد ان کا قلمی نام ہے ۔ یہ بھی کتنے افسوس کی بات ہے کہ لکھنے والا اپنی تخلیق کے ساتھ اپنا حقیقی نام تک نہیں لکھ سکتا اور شائد یہ اس معاشرے کے لئے افسوس کا مقام ہے کہ لکھنے والا اپنے نام کی بجائے صرف اپنا ادبی اور قلمی نام ہی لکھ پا رہا ہے اور کیوں کر ایسا نہ کرے ؟؟

مڑتی نگاہوں لپکتی نظروں اور اٹھتی انگلیوں سے کیموفلاج کبھی کبھار ضرورت بن جاتی ہے یوں نہ ہوتا تو انیسویں صدی میں چارلس ڈکنز کے بعد سب سے متاثر کن مڈل مارچ کی خالق ، ناول نگار میری این ایونز کو جارج ایلیٹ کے مرد نام سے نا لکھنا پڑھتا اور نہ ہی نورا روبرٹس کو جے ڈی روب کے نام سے لکھنا پڑتا ۔

فرشتہ بہار عمر کے اعتبار سے دل سے سوچتی ہیں اور رومانوی مضامین کو زیر بحث لاتی ہیں(خوشبو کی چوبیس سالہ پروین شاکر کی طرح ) لیکن حساس ذہن بھی رکھتی ہیں تو بیرونی عوامل سے کٹ کر نہیں رہ سکتیں ۔ ایک معصوم ذہن کو سماجی رویے جس طرح متاثر کرتے ہیں اسی شدت کے ساتھ سراپا احتجاج نظر آتی ہیں ۔ انھیں یہ فکر کہ قرب کا سلسلہ اگرچہ بہت ضروری ہے لیکن کبھی کبھار پشتون سماج میں انسانی جذبوں پر قدغن کی گھٹن ان کے لئے سانس لینا دشوار کر دیتی ہے ۔ اور یہی نہیں انھیں کبھی کبھار یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کی زندگی ابتدا سے لے کر مرگ تک بس آنسوؤں کا ایک مسلسل سفر ہے اور یہ احساس ایک شعر میں در آتا ہے تو لگتا ہے کہ کہ یہ ایک ایک سسکی ہے جس نے پوری آڈینس کی آنکھوں کو نم کر دیا ہے کیونکہ یہ ایک جنس کا نوحہ ہے ۔ المیہ ہے ۔ ذاتی رنج ہر گز نہیں ۔

کبھی کبھار وہ یوں گویا ہوتی ہیں کہ لگتا ہے کہ ان کی زندگی قربانیوں پر مبنی ایک کہانی ہے جس میں ایک کردار دوسرے کردار کی خاطر اپنی ہر خوشی اور خواہش کو نظر انداز کرنے کی عارفانہ کوشش کر رہا ہے ۔ غیر ارادی طور پر صنفی ناہمواری کے ایک بائیولوجیکل جذبہ پر اثرات کی بہترین مثالیں فرشتہ بہار کی شاعری میں اکثر جگہوں پر نمایاں ہیں ۔ اس کے بر عکس اسی کیفیت کے زیر اثر اکثر جگہوں پر یہ بھی واضح نظر آتا ہے کہ ان کو سماجی ناہمواری کا شدت سے احساس ہے اور اعتراف ہے اور وہ اظہار کئے بغیر نہیں رہ پاتی۔

فرشتہ بہار پشتون سماج سے متعلق ہیں ۔ اور معروضی حالات اور پشتون معاشرہ پر بدامنی اور تشدد پسندی کے اثرات سے خود کو بالواسطہ متاثر محسوس کرتی ہیں ۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر سارا شہر خود کو جب بھی کرچی کرچی آئینے میں دیکھے گا تو سب کو اپنے چہرے اور اپنے عکس سالم نہیں ملیں گے کیوں کہ حالات نے جو لکیریں کھینچ رکھی ہیں اس سے کوئی بھی نہیں بچ سکا ہے ۔ سب کے نقش آدھے ادھورے رہ گئے ہیں ۔ وہ پشتون سماج کی چند روایتی مسٔلوں پر بھی برہم ہو جاتی ہیں اور سوچنے لگتی ہے کہ آخر کیوں زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی خاطر گاؤں کا خان یعنی باثر طبقہ جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا .

فرشتہ بہار بہر طور پھر بھی پر امید ہیں شائد اسی لئے انہیں زندگی کی علامتوں سے محبّت ہے ۔ انھیں لگتا ہے کہ بہار ہی مستقبل ہے ۔ کشت و خون کے عہد کے بعد انھیں ایک روشن صبح کے اثار دکھائی دیتے ہیں ۔ انھیں پرندوں کی چہکار دور سہی پر سنائی ضرور دیتی ہے ۔ انھیں پشتون خطہ میں امن کی مہک محسوس ہوتی ہے تو ان کی شاعری سے رنگ پھوٹنے لگتے ہیں ۔

اکثر جگہوں پر آپ فرشتہ بہار سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ آپ کہہ سکتے ہیں ان کی تخلیقات میں تکنیکی کمزوریاں ہیں ۔ جذباتیت بہت ہے ۔ رومانویت کی کثرت ہے ۔سطحیت ہے لیکن آپ ان کی بھرپور اور توانا آواز کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ آپ ان کے عمیق مطالعہ اور وسیع مشاہدے کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔

لہریں سب کے پیر چھو چکی ہیں ۔

فرشتہ بہار نے تالاب میں پہلا کنکر پھینک دیا ہے۔

 

(فرشتہ بہار کرک سے تعلق رکھنی والا شاعرہ ہیں اور ان کاپشتو شعری مجموعہ “چغار مې اوره” کے نام سے چھپ چکا ہے )

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!