افضل خٹک کا بلاگ : ‘خٹک’ ہر صبح کسی دیسی مرغے کی مانند جنگ کی تلاش میں نکلتا ہے

جی ہاں، میں بےبانگ ِدہل اس جرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی خٹک ہوں۔ خٹک اس لئے ہوں کہ جس گھر میں پیدا ہوا ہوں وہاں جتنے افراد تھے وہ سب کے سب خٹک تھے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اس لئے میں نے بھی خٹک بننے میں عافیت جانی۔ غالبا‘ کہیں سے سُن لیا ہو گا کہ رُوم میں رہو تو رومن بن کر رہو۔

افضل خٹک: نوجوان بلاگر، اکثر افضل کے الفاظ کا وہ مطلب نہیں ہوتا جو پہلی نظر میں قارئین سمجھ لیتے ہیں۔

بظاہر میرے خٹک ہونے میں سارا قصور میرا نہیں ہے ، قصور تو یوں بھی میرا نہیں ہے‘خوشحال خان خٹک اور انہی جیسے دیگر قصورواروں کا ہے تاہم اگر میں خٹک ہو ہی گیا ہوں تو میں نے خٹک ہوئے رہنے میں اتنی دیر لگا دی ہے کہ ایکسپائری مدت بھی گزر چکی ہے۔ اب میرا خٹک پن واپس نہیں موڑا جا سکتا۔

میرا خٹک ہونا میری پیدائش کی وجہ سے ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ ہم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہےچنانچہ یہ فدوی کسی بھی طور اقبال کی طرح شکوہ و جواب شکوہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خدا کا شکر ہی ادا کر سکتا ہوں کہ اُس نے مجھے خٹک پیدا کیا ہے۔

وہ اگر یوسفزئیوں کے گھر بھی پیدا کر دیتا تو پھر بھی میں کیا کر سکتا تھا۔ ویسے خٹک ہونا یوسفزئی ہونے سے تو خاصا بہتر ہے۔ خٹک فطرا‘ جھگڑالُو ہے یہی وجہ ہے کہ پاک فوج میں ان کی اکثریت نظر آتی ہے۔ یہ لڑائی کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔

میرے محترم چچا جان عارف خٹک لالا جوکہ مجھ سے تھوڑے کم دانشور ہیں اُنکا کہنا ہے کہ جس طرح چرند پرند صبح سویرے روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں اسی طرح خٹک بھی نہار منہ گھر سے کسی ایسے بندے کی تلاش میں نکلتے ہیں جو اُن سے لڑائی پر آمادہ ہو سکے۔

میں ہوں فیس بکی دانشور میری معلومات کا اصل منبع سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا
اور چند من پسند کالم نگاروں کے کالم ، مصروفیات کی بدولت کتب بینی جیسا فضول مشغلہ میں وقت ضائع نہیں کرتا.
مجھے شعر و شاعری سے بہت رغبت ہے جو شعر نظر آتا ہے، ضرور شیئر کرتا ہوں اگر اقبال کا نام ساتھ لگا ہو تو عقیدت سے شیئر کرتا ہوں۔

شعر کی تصدیق کے لیے وقت نہیں ہوتا، تو حضرت اقبالؒ کا پیغام جلد از جلد آگے پہنچنا چاہیے۔ شعر و شاعری سے رغبت ہو اور عشق مجازی کا ذکر نہ ہو؟

لہٰذا ادھ موئی لڑکیوں کی تصاویر کے ساتھ ادھ موئے تحریریں میری وال کو ادب کا شاہکار بنا دیتے ہیں۔

الحمدللہ، مسلمان ہوں لہٰذا کوئی بھی حدیث نظر سے گزرے تو فوراً سے پہلے شئر کرتا ہوں، اب تحقیق میں وقت ضائع کر کے چند منٹ کے ثواب سے کیونکر محروم رہوں.

کچھ بد ذوق اور گستاخ قسم کے لوگ ریفرینس مانگتے ہیں، اب بھلا اچھی بات کے لیے بھی کسی ریفرینس کی ضرورت ہوتی ہے؟ ہں!

ہم سوشل میڈیا کے حاجی اور معاشرے کے ابلیس ہیں۔ سوشل میڈیا کے مومنین کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ سیدھا ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔
فیس بکی مفتی اعظم کے سائے میں کئی ایک چھوٹے چھوٹے بکی مولبی کام کرتے ہیں۔

یہ سب ”من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو“ کے مصداق چلتے ہیں۔ ہر کسی نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے اور کفر کے فتوے ان کے ہاں تھوک پر دستیاب ہیں۔ بس کبھی غلطی سے بھی ان کے خلاف کچھ نہ کہیے گا، نہیں تو آپ کا ایمان ایسا بُک کریں گے کہ خود ایمان کو خبر نہ ہو گی اور آپ فیس بک تو کیا اپنا فیس دیکھ کر بھی ڈریں گے۔

ان کا سب سے مؤثر ہتھیار بغیر حوالے کے کوئی بھی بات اس انداز میں تیار کرنا ہوتی ہے جس سے یہ لوگوں کے جذبات آسانی سے قابو کر سکیں اور پھر جذباتی لوگ اپنا ایمان تازہ کرتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے دے شیئر پر شیئر اور لائیک پر لائیک۔ باتیں ایسی کہ جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔اگر آپ انہیں سمجھانے کی خاطر یا ان سے بحث برائے تعمیر کرنا چاہو تو چونکہ ان کے پاس کوئی حوالہ نہیں ہوتا لہٰذا ذاتیات پر اترتے ہوئے ایسی گالیاں دے گے کہ آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

ان کی باتوں میں اتنا وزن ہے کہ چھوٹی سے بڑی ہر بات پر شیطان انہیں روکتا ہے اور یہی چیز ان کی پہچان ہے کہ جب کوئی چیز شیئر کرتے ہیں تو ساتھ لکھتے ہیں کہ ”جب آپ اسے شیئر کرنے لگے گے تو شیطان آپ کو روکے گا“۔ اگر آپ ان سے حقیقی زندگی میں ملیں تو حیرانگی یہ ہو گی کہ ان کا اسلام سے اتنا ہی واسطہ ہے جتنا آج کل ایک عام مسلمان کا ہے مگر فیس بک پر یہ بکی مفتی اور بکی مجاہد اعظم کے نام سے مشہور ہوئے بیٹھے ہیں۔

آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہو گا، جس میں ایک شاعر دوسرے کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے تو کوئی بندہ پوچھتا ہے کہ اجی کیوں بھاگ رہے ہو تو شاعر صاحب فرماتے ہیں کمبخت اپنا شعر سنا کر بھاگ گیا ہے اور میرا نہیں سن رہا۔ بالکل جی انہی کی طرح پاکستان کے حلوہ خور مولوی صاحبان بھی ہیں آپ کے پیچھے تب تک پڑے رہتے ہیں جب تک آپ اُنکی تندور جیسے تُند میں کچھ ڈال نہ دو۔

میرے دادا محترم عزت مآب جناب خوشحال خان خٹک فرماتے ہیں کہ بانس بہ لرگے نشی او خٹک بہ سڑئے نشی تو اگر خوشحال بابا کو پتہ ہوتا کہ ایک دن پاکستان معرض وجود میں آئیگا تو وہ یہی فرماتے کہ روزانہ سو گدھوں کے نیچے لیٹ جایا کرو لیکن کسی پاکستانی مولبی کیساتھ بحث و مباحثہ نہ کیا کرو اور مزید یہ فرماتے کہ کتے کی دم سیدھی ہوجائیگی لیکن پاکستان کے مفت خلوہ خور طبقہ ویسا ہی زمانہ جاہلیت والا رہیگا۔

یہ فیس بک ہے جناب یہاں آگ ماچس، تھیلی سے نہیں میری تحریر سے لگتی ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!