ذیشان خٹک کا بلاگ ’ہر وعدہ پورا ہوگا‘

جب بھی اخبار پڑھتا ہوں یا سوشل میڈیا دیکھتا ہوں تو یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ یہ کیا ہے کہ ہر وقت تنقید برائے تنقید کے کالم اور تحریر ملتے ہیں۔

ذیشان خٹک
ذیشان خٹک: شعبہ ابلاغ کا طالب اور سیاست اور سماجی مسائل کے حوالے سے لکھتے ہیں

میں نے سوچ لیا ہے کہ اقدامات ہو یا معاملات میں ان کی مثبت پہلوؤں اُجاگر کرونگا۔ کامیابی کے موضوع پر بہت سے تحقیقات موجود ہیں۔

جن میں سب سے بہترین تحقیق نیپولن بِل کی ہے۔ تحقیقات کے مطابق کامیابی کی پہلی وجہ ایمانداری ہے۔اس کے ساتھ خوش قسمت وہ ہے جو اپنے کام سے محبت کرتا ہو۔

کام سے محبت کرنا جنون ہے اور یہی جنون پاکستان تحریکِ انصاف کے نوجوان بےباک اور نڈر لیڈر شاہد خٹک میں ہے۔ وہ ضلع میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مایوسی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کلیے دن رات کام کررہا ہے۔

پچھلے دو سالوں سے محنت کررہا ہے کہ جس طرح بھی ہو میں اپنے حلقہ کے مسائل حل کروں۔جس طرح قوم نے الیکشن 2018 میں میرا مان رکھا۔اسی طرح اب میرا فرض بنتاہے کہ میں ان کے خواہشات پر پورا اُتروں۔

الیکشن جیتنے کے بعد سب سے پہلا انہوں نے گیس منصوبے پر کام شروع کیا۔ایک طویل جدوجہد کے بعد ایم این اے شاہد خٹک کو کامیابی ملی۔

انہوں نے پٹرولیم منیسٹر اور چیف منیسٹر خیبر پختونخواہ کو اس بات پر قائل کیا کہ گیس سب سے پہلے میرا حق ہے۔

وفاق اور صوبے نے اپنے اپنے شیئرز مختص کیے۔اور کرک گیس کلیے خطیر رقم ریلیز کیا۔جو شائد ناممکن کام تھی۔جو شاہد خٹک نے ممکن کرکے دیکھایا۔

ایم این اے NA-34 شاہد خٹک کی دوسری بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے پہلے سال پاکستان تحریکِ انصاف کے سنٹرل رہنماء جہانگیر خان ترین کو بھی کرک آنے پر مجبور کیا۔

جو اُس وقت ایڈیشنل وزیراعظم بھی سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے مختلف ڈیمز اور پورے ملک کی شجرکاری مہم کا افتتاح بھی یہاں سے کیا تھا۔ڈیمز اور شجرکاری کی مد میں کروڑوں روپے ضلع کو ملینگے۔

گیس پراجیکٹ کے بعد بجلی مسئلے پر فوکس کیا لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ پیسکو اپنے لیے ایک الگ مافیہ ہے۔وہ بڑے بڑے منیسٹرز کو گھاس تک نہیں ڈالتے بےچارہ شاہد خٹک تو ایک چھوٹا سا ایم این اے ہے۔

لیکن پھر بھی شاہد خٹک نے ہار نہیں مانی۔آخر تک کوشش کرتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی کامیابی دی۔متعدد بار اسمبلی فلور پر کرک کے بجلی پر سپیچ بھی کی۔

2004 سے کرک میں دو گریڈ سٹیشن بند پڑے تھے۔جس میں ایک سراج بابا گریڈ سٹیشن اور دوسرا صابرآباد گریڈ سٹیشن۔ دونوں سٹیشن پر ترجیحی بنیادوں پر کام شروع۔

اللہ تعالیٰ کی فضل سے اور قوم کی دعاؤں سے اس امتحان میں بھی سرخرو ہوا۔دونوں گریڈ سٹیشن چالو ہوئیں۔اور دھیرے دھیرے کرک کے بجلی کا مسئلہ بھی حل ہوجائیگا۔

دوسری طرف اپنے حلقے میں سب سے زیادہ ٹرنسفرمرز اور کھمبے نصب کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا ہے۔

اس کے علاوہ پانی کا مسئلہ بھی وہ جنگی بنیادوں پر حل کرنا چاہتا ہے۔جہاں ٹیوب ویلز سے پانی کا مسئلہ حل ہوتا تھا۔وہاں ٹیوب ویلز لگائے گئے۔

باقی کرک سٹی پانی کا میگا منصوبہ تقریباً کاغذی کاروائیوں میں کمپلیٹ ہے۔اس کلیے 62 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں۔ انشاءاللہ بہت جلد اس پر بھی کام شروع ہوجائیگا۔

ا کے علاوہ سب سے بڑی کامیابی یہ ملی کہ کرک روئیلٹی اور پروڈکشن بونس فنڈز کو ضائع کرنے سے بچایا۔جو پہلے ادوار میں ضائع ہوئیں ہیں۔

چیف مینسٹر کو اس بات پر قائل کیا کہ اس کلیے ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام بنائیں۔تاکہ ہمارے اپنے پیسے میگا منصوبوں پر خرچ ہوسکیں۔

یہ پیسے اب اجتماعی کاموں پر خرچ ہونگے۔ اس کے علاوہ ایم این اے شاہد خٹک نے اپنے حلقہ میں سڑکوں کا وسیع جال بچائے۔

جس میں گرگری روڈ، نری پنوس روڈ، ٹیری روڈ ، بہادر خیل روڈ، رحمت آباد ٹو سورڈاگ روڈ، رحمت آباد ٹو امبیری کلہ روڈ، ورانہ احمد آباد روڈ، تحتِ نصرتی ٹو حدہ بانڈہ روڈ، عیساک چونترہ روڈ کے علاوہ اور بھی بہت سارے روڈز نمایا ہیں۔

الغرض ایم این اے شاہد خٹک کو گھیرانے والے خود گِر چکے ہیں۔

انتشار کی سیاست کرنے والے خود منتشر ہوکر نشانِ عبرت بن چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور حلقہ ایم این اے شاہد خٹک پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں منصب عطا کیا ہے۔اب وہ عوام کے حق کلیے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ عوام کی اعتماد کی طاقت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اعتماد کے بلِ بوتے پر ملک و قوم کی ترقی خوشحالی اور استحکام اور غریب عوام آسودہ خالی کا یہ میشن جاری رہیگا۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!