آخر کب تک؟

کب تک یہ ظلم سہتے رہینگے؟ کب تک یہ ظلم برداشت کرتے رہینگے؟ کب تک ہماری پھول جیسی بچیاں تشدد کا نشانہ بنتی رہیں گی؟ کب تک ہم اپنی معصوم کلیوں کی جنازے اٹھاتے رہینگے؟ کب تک ہم مذمت لفظ سے جھوٹے دلاسے پر مطمئن ہوتے رہینگے؟ کب تک ہم احتجاجی مظاہروں سے اپنا حق مانگیں گے؟
ہوس کے ان پجاریوں سے کب ہمیں نجات ملے گی؟ اللہ کی اتنی بڑی کائنات ان ظالموں نے ہم پر تنگ کر دی ہے، ہماری بچیوں پر خوف سا طاری کیا ہوا ہے. یہ خوف کب تک طاری ہوگا؟
آخر کب تک؟
اس ظلم کا ذمہ دار اس معاشرے کا ہر فرد ہے۔ یہ ظلم جو آئے روز ہماری بچیوں پر کیا جا رہا ہے، اس ظلم کے ذمہ دار ہم خود ہیں کیونکہ ہوس کے پجاری بھی ہماری ہی خون کی پیداوار ہیں۔ ہماری ہی معاشرے میں پال پوس کر بڑے ہوئے ہیں۔
آخر کب تک؟
حریم یا زینب جیسی کلیاں کب اس ظلم سے محفوظ ہوں گی؟ تب جب ہم حریم یا زینب کو اپنی بچی کی نظر سے دیکھیں، تب جب حریم یا زینب کے والدین کی طرح درد ہم خود محسوس کریں گے یا تب جب یہ ظلم کی داستان ہماری صائمہ، ہماری انم کے ساتھ رقم کر دی جائے گی؟ تب جب یہ ظلم ہماری ہی خون کے ساتھ کیا جائے.
یہ ظلم آخر کب تک؟
کچھ روز پہلے کوہاٹ شہر کے خٹک کالونی کے نوید کے گھر کی ایک تین سالہ بچی حریم فاطمہ کے ساتھ رونما ہونے والے واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا.
پورے کوہاٹ ڈویژن کے مشیران، نوجوانان، سیاسی مشران اور علماء کرام نے بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کر کے پولیس اور متعلقہ اداروں کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور سخت کاروائی کرنے پر مجبور کردیا۔
سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور آواز اٹھائی گئی۔ تقریباً چار دن تک مسلسل احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔ مشیران اس واقعے کے جلد ازجلد تحقیقات کرکے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے بے تاب ہیں، لیکن تاحال ایسا کوئی سراغ نہیں ملا جس سے واضح طور ہر قاتل کی طرف اشارہ ہو۔ لیکن فی الحال سی سی ٹی وی فوٹیج پر گزارہ کیا جارہا ہے۔
پولیس اور دوسری متعلقہ اداروں کی یہ غفلت عنقریب ان کےلئے دردِ سر بنتی جا رہی ہیں.
آخر کب تک؟
یہ احتجاج کب تک ہوتے رینگے؟ یہ سوشل میڈیا کمپین کب تک چلاتے رہینگے، آخر کب تک پولیس کی اس لاپرواہی کا انتظار کرتے رہینگے؟
ہمیں اب اٹھنا ہوگا ایک قوم بن کر
چٹان کی طرح کھڑا ہونا ہوگا۔ حریم کےلئے نہیں اپنے گھر کے شازیہ، ماہین اور عائشہ کےلئے کھڑا ہونا ہوگا۔
سوشل میڈیا کمپین چلانے سے ہماری بچی واپس نہیں آتی لیکن انکو انصاف دلانے کی ناکام کوشش کر سکتے ہیں۔۔۔
ہمیں اپنے بچیوں کےلئے سوچنا ہوگا،
اس ظلم کو بند کرنا ہوگا۔
حوس کے پجاریوں کی ایک ہی سزا ‘سر تن سے جدا!’
اگر اپنی بچیوں کو محفوظ رکھنا ہے تو آج ہی سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا شروع کریں، اختیاطی تدابیر یہ ہے کہ ہوس کے ان پجاریوں کی سزا کےلئے بل منظور کرنے کے کےلئے ہم سب نے مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔
حریم فاطمہ کے قاتل کو عبرتناک سزا ملنی چاہئیے تاکہ کل کوئی اور ہماری بچیوں کی طرف ہوس کی نظروں سےنا دیکھے.
اللہ ہم سب کا خامی و ناصر ہو آمین ثم آمین یا رب العالمین

شیئر کریں
براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!