جہیز | اصغرلیاقت علی

جہیز کا مطلب سامان تیار کرنا یا تیاری کے معنوں میں آتا ہے۔اسلام سے قبل عربوں میں بہت سی برائیاں پائی جاتی تھیں ان میں ایک بیٹیوں کو زندہ درگو رکرنا یا انہیں دھتکارنا بھی شامل تھا۔بیٹی کی پیدائش پر شرم سے لوگ اپنی ہی بیٹیوں کو زمین میں زندہ دفن کر دیتے تھے کہ کوئی انہیں بیٹی کاباپ ہونے کا طعنہ نہ دے۔اسی طرح بیٹیوں کو باپ کی جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا۔اسلام نے نہ صرف عورتوں کا جائیداد میں حصہ مقرر کیا،بلکہ بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔عورت کی زبوں حالی صرف عرب کے علاقے تک محدود نہ تھی اس وقت کی سپر پاور روم اور کسری کے علاقوں میں بھی عورت کو تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور ہندوستان میںتو عورت کی حالت نہایت ہی مخدوش تھی۔

ہندو معاشرے میں بھی عورت کو نہ صرف باپ کی جائیداد سے محروم رکھا جاتا تھا، بلکہ شادی کے بعد اگر اس کا خاوند فوت ہوجائے تو اسے بھی بعض اوقات اس کے ساتھ آگ میں جلناپڑتا اور یہ روایت اب بھی بھارت کے کئی علاقوں میں موجود ہے۔عورت چونکہ باپ کی وارث نہیں بن سکتی تھی، اِس لئے والدین شادی کے وقت حسب استطاعت اپنی بیٹی کو ”دان“(کیونکہ ہندی میں جہیز کو دان کہتے ہیں اور ماں باپ دان کے نام پر جہیز دے کر بیٹی کو جائیداد میں حصے سے محروم رکھتے ہیں)کے نام پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرتے اور جن لڑکیوں کے والدین ”دان“ کی سکت نہ رکھتے ان کی بیٹیوں کو معاشرہ بیوی کی حیثیت سے قبول کرنے سے عاری تھا۔

جب برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی آمد ہوئی اور لوگ مسلمان ہونا شروع ہوئے تو پھر یہی دان مسلمان معاشرے میں آ کر جہیز کی صورت اختیار کر گیا۔ کچھ لوگ جہیز کو اسلام کی پناہ میں تلاش کرتے ہیں،حالانکہ اسلام اور جہیز جیسی لعنت کا آپس میں دور دور تک کوئی تعلق نہیں،جبکہ کچھ نا عاقبت اندیش اس کو حضرت علی©ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی شادی والے واقعے سے جوڑتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت علیؓ کی حضرت فاطمہؓ سے شادی ہوئی تو تب حضرت علیؓ مکہ سے ہجرت کر کے آئے تھے اور ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا،جس کی وجہ سے گھر کے سازو سامان کے لئے حضرت علی ؓنے اپنی زرہ بیچی جسے حضرت عثمان ؓنے خریدا اور ان پیسوں سے حضرت علی ؓ نے گھر کا ساز و سامان خریدا۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے نکاح سے ایک بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ گھر میں استعمال ہونے والی اشیا کی ذمہ داری اور ان کا بندوبست کرنا مرد کی ذمہ داری ہے چاہے وہ غریب ہی کیوں نہ ہو۔

باپ کی وراثت میں بیٹیوں کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے اور اس کا ذکر قران پاک میں بھی موجود ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے کہ بیٹیوں کو ان کا جائز حق دینے کی بجائے انہیں جہیز دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے اور ان کی حقیقی وراثت کی منتقلی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی، بلکہ اگر کوئی مطالبہ کردے تو اسے معیوب تصور کیا جاتا ہے،بلکہ پھر بیٹیوں سے دشمنی شروع ہو جاتی ہے کہ انہوں نے جائیداد میں سے حصہ کیوں مانگا آج بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہیز کے بغیر شادی کا تصور بھی ناممکن ہے کتنے ہی پڑھے لکھے لوگ دین پر عمل کرنے والے لوگ جہیز جیسے معاملے پر چشم پوشی اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ معاشرے میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں، جن کی شادی صرف اِس لئے وقت پر نہ ہو سکی کہ ان کے والدین ان کے جہیز کا بندوبست نہ کر سکے۔

 

محدود چند امیر لوگوں کو چھوڑ کر بے شمار لوگوں کی زندگیاں اپنی بیٹیوں کا جہیز تیار کرنے میں گزر جاتی ہیں،بلکہ اکثر اوقات قرض لے کر اس رسم کی ادائیگی کی جاتی ہے اور اگر کوئی بندہ خداس رسم کو ختم کرنے کے لئے قدم اٹھائے تو اسے معاشرے کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ اس کا معاشرتی بائیکاٹ بھی کر دیا جاتا ہے۔ دوسرا ہمارے معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کی ایک بڑی وجہ جہیز جیسی لعنت ہے، جس کی وجہ سے اپنی نوجوانی کی عمر لڑکیاںاسی آس میں گزار دیتی ہیں کہ ان کی شادی کے لئے کوئی ڈھنگ کا لڑکا مل جائے اور اگر خوش قسمتی سے لڑکا مل جائے تو پھر لڑکے والوں کی جانب سے جہیز کی طلب ہی اتنی زیادہ کی جاتی ہے،جس کی وجہ سے نوجوانوں کی شادی کی عمر گزر جاتی ہے اور وہ گناہ کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔

ہمارے علما ءکرام کو دیگر امور کے ساتھ ساتھ جہیز کے خاتمے کے لئے بھی کام کرنا چاہئے اور معاشرے میں نکاح آسان تحریک کا آغاز ہونا چاہئے تا کہ وہ بچیاں جو گھر بیٹھے بوڑھی ہو رہی ہیں، جن کے رشتے ان کے والدین کی جانب سے جہیز کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں وہ بھی نکاح جیسی سنت سے مستفید ہو سکیں۔ہمارے حکمران جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتے ہیں انہیں بھی اس حوالے سے کام کرنا چاہئے کیونکہ ریاست مدینہ والے کی بیٹی کی شادی جب ہوئی تو ان کے لئے ان کے خاوند نے جہیز خریدا اور ہمارے حکمران اگر مدینہ جیسی ریاست قائم کرناچاہتے ہیں تو پھر خالی نعروں سے کام نہیں چلنا اس کے لئے عملی کام کرنے کی ضرورت ہے۔جہیز اور اس کی مانگ کے حوالے سے قرار دادیں تو اسمبلیوں سے بہت پاس ہوتی ہیں اور قانون سازی بھی کی جاتی ہے، لیکن عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس حوالے سے میڈیا پر پیغامات اور ایک مہم کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے تا کہ لوگوں کو احساس ہو کہ وہ ایک غلط کام میں الجھے ہوئے جس سے نکلنے میں ہی معاشرے کی بھلائی ہے۔

شیئر کریں
براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.

 یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!