سمیع خٹک کہ تحریر ‘چابی چین’

یہ ایک عام سی بات ہے کہ انسان ہمیشہ وہی کرتا ہے جس میں اس کا فائدہ ہو اور آگے دوسروں کو بتاتا بھی وہی ہے اور اتنا ہی بتاتا ہے جہاں تک اس کو اپنا مفاد نظر آ رہا ہو۔ انسان جتنا مفاد پرست ہے شاید ہی انسان کو خود اس امر کا اندازہ ہو، ہمارے قوم پرست جو بقول ان کے تاریخ کا ایک خزانہ رکھتے ہیں اور کافی علم ہے اس بارے میں، کا خیال ہے کہ دنیا کے سارے پشتون افغان ہیں جبکہ حقیقت اس کے بلکل برعکس پایا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف افغانستان کا شہری جو افغانستان کا پاسپورٹ رکھتا ہو افغانی تصور ہوتا ہے اور یہ بات افغانستان کے آئین میں بھی ہے، یہ لوگ یہ بات ماننے سے انکاری ہیں کہ افغان کوئی قوم نہیں بلکہ ایک ملت کا نام ہے۔ یہ لوگ جو کہ اصل میں ادھوری جانکاری اور کم علمی یہ بات بھی کرتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن سے قبل اٹک تک کا علاقہ افغانستان کا حصہ تھا اور پاکستان افغان سرزمین پر بنا ہے، حالانکہ عالمی عدالت میں افغان حکومت دو بار گئی ہے، اس حوالے سے اور دونوں بار اپنے موقف کو ثابت کرنے میں ناکام رہی۔

اب دنیا کا یہ اصول ہے کہ جس چیز کے تم دعویدار ہو اس کی ملکیت ثابت کرنی پڑتی ہے مگر افغان حکومت اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان بڑے اور قوم پرست دانشوروں کی خدمت میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ پختونخواہ جو کہ سابقہ صوبہ سرحد کے نام سے جانا جاتا تھا کے اہلیان نے قیام پاکستان کے دوران ایک ریفرنڈم کروایا گیا تھا اور آپ ہی کے آباو اجداد نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی تھی، یہاں یہ بات بھی بتانا مقصود ہے کہ اس وقت نہ جنرل باجوہ تھا اور نہ ہی کوئی ایجنسی۔

اپنی پانچ ہزار سال کی تاریخ کی دعویداروں سے میرا ایک سوال ہے کہ جیسے آپ دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان نہیں تھا اور ہم تھے، اس لئے پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین اسلام چودہ سال سے ہے جبکہ آپکی تاریخ تو پانچ ہزار سال پرانی ہے، کل کو آپ لوگ یہ تو نہیں کہیں گے کہ ہم اسلام کو نہیں مانتے کیونکہ اسلام کا مذہب چودہ سو سال پہلے آیا اور ہماری تاریخ تو پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ اب چودہ سو سال قبل ہی آپ کے آباو اجداد نے اسلام کو قبول کیا تھا اس سے پہلے تو آپ کے اجداد کسی اور مذہب کے پیروکار تھے، اگر آپ اپنے اجداد کے چودہ سو سال قبل کے فیصلے پر قائم ہیں تو آج سے سات دہائیوں پہلے جو فیصلہ آپ کے اجداد نے کیا اس پر قائم کیوں نہیں؟۔

میرے معزز دوست جو اپنی پانچ ہزار کی تاریخ کا دعویٰ جو کرتے ہیں کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ پانچ ہزار سال قبل یہ لوگ افغانی تھے؟ نہ تو ان کو معلوم ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے یہ کیا تھے اور نہ یہ ثابت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، الثر نو تو صرف سوشل میڈیا یہ یوٹیوب کے ‘حقیقت ٹی وی’ جیسے ڈیجیٹل میڈیا پر ایسا ایک کچھ سنا یا پڑھا ہوتا ہے، اگر تاریخ میں پانچ ہزار سال قبل جانا ہے تو یہ بھی بتایا کرو کہ پشتون قوم یہودیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، العرض کہ تاریخ اتنی ہی کیوں بتائی جاتی ہے جہاں تک فائدہ نظر آتا ہو، مکمل کیوں نہیں؟ جب تک تاریخ کو ہم تعصب کی نظر ہٹا کر پڑھیں گے نہیں اور دوسروں کو بتائنگے نہیں تب تک ہم ایسے ہی رہینگے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

براہ کرم ایڈ بلاکر کو غیر فعال کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں.
یا اس ویب سائٹ کو اپنے ایڈ بلاکر سے وائٹ لسٹ کریں. شکریہ

شیئر کریں
error: ڈیٹا کاپی رائٹ محفوظ ہے!